اساتذہ، ہوائی سفر، ٹرانسپورٹرز کی ویکسینیشن کیلئے ڈیڈ لائن مقرر

Asad umar
0 0
Read Time:2 Minute, 0 Second

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) وفاقی وزیر اور سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اسد عمر نےویکسین لگوانے کا عمل آسان ترین کر دیاہے، 31 اگست تک ویکسین نا لگوانے والوں کے لیے مزید سختیاں کرنے جا رہے ہیں۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اسد عمر نے کہا کہ ایک سال سے زائد ہو گیا کہ ہم کورونا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں.

انھوں نے سندھ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے ہوئے کہا بڑے مستعد انداز میں کورونا کو دیکھ رہی ہے لیکن وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک بند نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اسکول لے جانے والے ڈرائیور، کنڈیکٹر، ہوٹل اور ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے ملازمین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار 31 اگست سے پہلے کورونا ویکسین لگوائیں.

انھوں نے کہا کہ پبلک ڈیلنگ والے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے بھی ویکسی نیشن کی آخری تاریخ 31 اگست ہے، 18 سال سے زائد عمر کے طالب علم بھی 31 اگست تک ویکسی نیشن کروالیں۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اساتذہ کے لیے بھی 31 اگست تک ویکسین لگوانا لازمی ہو گا کیونکہ ہم بچوں کی صحت پر سمجھوتا نہیں کر سکتے، جن اساتذہ نے ویکسی نیشن نہیں کروائی وہ یکم اگست کے بعد اسکول نہیں جا سکتے۔

سربراہ این سی او سی کا کہنا تھا کہ 31 اگست تک ویکسی نیشن نا کرانے والوں کے کام کرنے پر پابندی ہو گی، ویکسین نا لگوانے والے 31 اگست کے بعد ہوٹلز، ریسٹورنٹس، میرج ہالز میں کام نہیں کر سکیں گے.

اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہی نہیں بلکہ بس اڈوں اور عوامی مقامات پر کام کرنے والوں کے لیے بھی ویکسین لگوانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے.

یکم اگست سے ہوائی سفر کرنے والوں کے لیے ویکسی نیشن لازمی ہو گی، کم از کم ایک ڈوز لگوانے والے مسافر ہی ہوائی جہاز پر سفر کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سیکٹرز میں ویکسین کی پابندی کر رہے ہیں جو کورونا پابندیو ں کے باعث بند ہونے سے متاثر ہوئے، آئندہ کی صورتحال دیکھ کر مزید شعبوں کی فہرست جاری کی جائے گی۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کراچی میں کیسز بڑھنے سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اسی لئے کراچی میں وبا کا پھیلاؤ تیزی سے ہوا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Comments are closed.

Translate »