صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ، تاریخ، قراردادیں اور موجودہ تحریک
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد : صوبہ ہزارہ تحریک کا 27 اگست کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس کی صدارت تحریک کے سربراہ وفاقی وزیرسردار یوسف نے کی جب کہ ہزارہ کے مختلف اضلاع سے مقامی رہنما اس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں سب نے صوبے کے قیام کے حوالے سے اپنی اپنی تجاویزدیں اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اب جب کہ ملک میں صوبوں کے قیام کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں تو آغاز صوبہ ہزارہ سے ہونا چایئے کیونکہ یہ ایک دیرینہ مطالبہ ہے ۔
اجلاس میں صوبے کے قیام کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی ، اجلاس میں اس بات پر تشویش کا بھی اظہار کیا گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر صوبوں کے قیام کے حوالے سے جو 12 نام گردش کررہے ہیں ان میں ہزارہ صوبہ کانام نہیں ہے۔
پروفیسرز سجاد قمر نے اجلاس کی نظامت سنبھال رکھی تھی جب کہ اجلاس میں جو مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شریک تھے ان میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان، مرتضیٰ جاوید عباسی، زرگل خان، جنید قاسم ، بٹگرام ، کوہستان اور توڑغژ کی بھی نمائندگی تھی تاہم پی ٹی آئی کے رہنما شریک نہیں تھے۔
واضح رہےپاکستان میں صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ خیبرپختونخوا کے ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی عوام کی طرف سے کئی دہائیوں سے سامنے آتا رہا ہے۔
یہ مطالبہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب 2010ء میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے "خیبرپختونخوا” رکھا گیا۔ ہزارہ ڈویژن کے عوام نے اس تبدیلی کو اپنی شناخت کے خلاف قرار دیا اور صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
صوبائی اسمبلی میں قراردادیں
ہزارہ صوبے کے قیام کے حق میں مختلف ادوار میں قراردادیں پیش اور منظور کی گئیں:
-
1987ء: صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے پہلی بار عوامی سطح پر آواز بلند کی گئی۔
-
1990ء اور 1997ء: خیبرپختونخوا اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کے قیام کی قراردادیں پیش ہوئیں۔
-
2014ء: خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کے دوران صوبہ ہزارہ سمیت نئے صوبوں کے قیام کی قرارداد منظور کی گئی۔
-
2018ء اور 2021ء: اسمبلی میں دوبارہ ہزارہ صوبے کے حق میں قراردادیں منظور ہوئیں۔
یہ قراردادیں اگرچہ سیاسی سطح پر حمایت حاصل کرتی رہیں لیکن عملی قانون سازی اور وفاقی سطح پر آئینی ترمیم نہ ہونے کے باعث اب تک صوبہ ہزارہ کا قیام ممکن نہیں ہو سکا۔
ایبٹ آباد واقعہ 2010ء
صوبے کے نام کی تبدیلی کے خلاف احتجاج کے دوران 12 اپریل 2010ء کو ایبٹ آباد میں ہزارہ صوبہ تحریک کے کارکنوں نے بڑا مظاہرہ کیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس فائرنگ کے نتیجے میں7 مظاہرین جاں بحق درجنوں زخمی ہوئے۔
یہ واقعہ تحریک ہزارہ کی تاریخ میں ایک اہم اور افسوسناک موڑ سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ تحریک صوبہ ہزارہ
موجودہ دور میں صوبہ ہزارہ تحریک مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے جاری ہے۔
-
تحریک صوبہ ہزارہ تنظیمیں: ہزارہ عوامی محاذ، صوبہ ہزارہ تحریک کمیٹی اور دیگر مقامی تنظیمیں مسلسل احتجاج اور ریلیاں نکالتی رہی ہیں۔
-
سیاسی جماعتوں کا کردار: مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں عوامی دباؤ کے تحت صوبہ ہزارہ کی حمایت کرتی رہی ہیں لیکن کوئی بھی جماعت عملی طور پر آئینی ترمیم کے لیے فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکی۔
-
عوامی مطالبہ: آج بھی ہزارہ ڈویژن کے عوام صوبہ ہزارہ کے قیام کو اپنی شناخت اور حقِ حکمرانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
- صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ کرنے والوں کا دیرینہ موقف ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا ہزارہ ڈویژن کے وسائل کی وجہ سے چل رہا ہے اور اگرصوبہ ہزارہ بن جائے تو یہ خیبرپختونخوا سے زیادہ ترقی کرسکتاہے۔
- وسائل کے اعتبارسے ہزارہ میں سیاحت ، ڈیموں سے بجلی کی پیداوار، سی پیک کا گیٹ وے، اورمعدنی وسائل سے مالا مال ہے۔
- صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبہ میں اگرچہ تمام سیاسی جماعتیں شریک ہیں اور پی ٹی آئی ادوار میں دو مرتبہ صوبائی اسمبلی سے صوبے کی قراردادیں بھی منظور ہوچکیں تاہم ہزارہ کے سیاسی رہنما آپس میں متحد اور منتظم نہیں ہیں۔
اختتامیہ
صوبہ ہزارہ کا مطالبہ ایک تاریخی، عوامی اور سیاسی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
مختلف حکومتوں اور اسمبلیوں نے قراردادیں تو منظور کی ہیں لیکن آئینی اور عملی اقدامات نہ ہونے کے سبب آج بھی یہ مطالبہ ادھورا ہے۔
ایبٹ آباد فائرنگ کا واقعہ اس تحریک کو مزید تقویت دے گیا اور آج بھی ہزارہ کے عوام اپنے صوبے کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔
صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ، تاریخ، قراردادیں اور موجودہ تحریک
Comments are closed.