طالبہ کو کالج میں جنسی ہراساں کرنے کی سزا فقط تبادلہ کی سفارش؟

0 0
Read Time:1 Minute, 55 Second

فوٹو: فائل

لاہور( ویب ڈیسک) مخلوط نظام تعلیم سے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے اور اس بار بھی وہی کہانی ہے جو زیادہ تر یونیورسٹیز سکینڈلز میں سامنے آ چکی ہے لیکچرار پر اپنی طالبات پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاہے اور طالبہ کہتی ہیں استاد جی کہتے ہیں نمبر لگوانے ہیں تو ملاقات کرو۔

جنسی ہراسانی کا یہ الزام لاہور کے ایم اے او کالج کی ایک طالبہ نے رپورٹ کیاہے اور اپنے کالج کے لیکچرار پر طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے جب کہ انکوائری میں ثابت ہونے پر لیکچرار کو فقط سزا جو ملی وہ تبدیل کرنے کی سفارش ہے۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ سائیکالوجی کی ایک طالبہ نے کالج انتظامیہ کو تحریری طور پر شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ اسے اور اس کی ساتھی طالبہ کو ایک لیکچرار کی جانب سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔

تحریری شکایت میں طالبہ کی جانب سے بتا یا گیاہے کہ لیکچرار کی جانب سے اسے کہا گیا کہ نمبر لگوانے ہیں تو باہر ملاقات کریں ، یہی نہیں بلکہ انھیں موبائل پر نازیبا پیغامات بھی بھیجے گئے۔

جنسی ہراسانی کے اس معاملے میں طالبہ کی شکایت پر پروفیسرکی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم نے انکوائری کی اور موبائل فون ڈیٹا بھی انکوائری کا حصہ بنایا اور انکوائری رپورٹ محکمہ تعلیم کو بھیج دی گئی ۔

رپورٹ کے مطابق کالج پرنسپل کا اس سنگین الزام پر موقف ہے کہ صرف ایک طالبہ نے شکایت کی تھی، جس پر انکوائری کی گئی اور جب ، لیکچرارصاحب مرتکب پائے گئے تو ان کے خلاف یہ کارروائی ہوئی کہ ان کے کسی مردانہ کالج میں تبادلہ سفارش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم اے او کالج میں پہلے بھی ایک لیکچرار پر طالبہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، انکوائری میں لیکچرار کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا لیکن پرنسپل نے بیگناہی کا لیٹر جاری نہ کیا، بعد ازاں انگریزی کے لیکچرار نے خودکشی کرلی تھی۔

واضح رہے اس سے قبل کراچی ، جاموشورو ، اسلام آباد سمیت مختلف جامعات میں جتنے بھی سکینڈلز سامنے آئے ہیں ان میں زیادہ تر الزام ایک ہی ہوتاہے کہ مرد لیکچرارز طالبات کو نمبرز لگانے پر تعلقات قائم کرنے کامطالبہ کرتے ہیں اور ایسا ہی الزام یہاں بھی سامنے آیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
0Shares

Comments are closed.

Translate »