نون کی کنفیوژن

سہیل وڑائچ

آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے انتخابات میں نون لیگ کی شکست نے اُس کے بیانیے کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ نون کے بیانیے کی کنفیوژن نے بالآخر اسے مضمحل کر دیا ہے۔ شروع میں مزاحمتی بیانیہ اور مفاہمتی بیانیہ اسے سوٹ کرتا رہا، نون لیگ نے پارلیمانی سیاست اور پی ڈی ایم کی سیاست کے لئے مفاہمتی بیانیہ اپنایا اور شہباز شریف اس کے موید و مبلغ بن گئے جبکہ عوامی اور انتخابی سیاست کے لئے احتجاجی بیانیہ اپنایا گیا اور مریم نواز کو اس کا انچارج بنا دیا گیا۔ بیانیوں کا یہ تضاد دو تین برس سے چل رہا تھا اور ووٹر اس کنفیوژن میں مبتلا تھے کہ اصل بیانیہ کون سا ہے؟ میری ناقص رائے میں بیانیوں کے اندر یہ تضاد تھوڑی مدت کے لئے تو چل سکتا ہے اسے لمبی مدت تک چلانا ممکن نہیں ہوتا۔ نون لیگ کے ساتھ المیہ یہی ہوا ہے کہ اس تضاد نے ووٹر زکو مایوس اور پریشان کیا ہے۔

مریم نواز نے مزاحمتی بیانیے کو خوبصورتی سے چلایا، وہ کرائوڈ پلر رہیں، آزاد کشمیر میں ان کے جلسے سب سے بڑے اور متاثر کن تھے مگر مزاحمتی بیانیے کی خامی یہ ہوتی ہے کہ یہ انتخابات جیتنے کی گارنٹی نہیں ہوتا۔ مزاحمتی بیانیہ جذبات کو بھڑکاتا ہے، پارٹی کے اندر مزاحمتی جذبے کو مضبوط کرتا ہے، پارٹی موقف کو مضبوط کرتا ہے مگر اس بیانیے میں ہر صورت فتح حاصل کرنا شامل نہیں ہوتا۔ انتخابی بیانیہ فتح کی امید اور ہر صورت اس کے لئے کوشش پر مبنی ہوتا ہے۔ کافی عرصے سے مریم نواز کی سیاست انتخابی نہیں رہی، وہ صرف مزاحمتی سیاست پر زور دیتی ہیں چنانچہ انتخابی نتائج کا متاثر ہونا ایک فطری بات تھی۔

دوسری طرف شہباز شریف کی سیاست مفاہمانہ ہے اور انہوں نے اپنی ترجیح پارٹی سیاست اور عوامی سیاست کی بجائے پارلیمانی سیاست بنا رکھی ہے۔ وہ شاذ و نادر ہی پارٹی کے اجتماعات اور عوامی جلسے جلوسوں میں جاتے ہیں۔ شہباز شریف نے اپنی مفاہمانہ سیاست سے نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی اور حمزہ شہباز شریف کی رہائی کے حوالے سے بھی ان کے اس رویے نے مدد کی لیکن تحریک انصاف کے مقابلے میں ان کا بیانیہ کمزور نظر آتا ہے۔ مریم کے بیانیے میں جان ہے اور یہ زور دار ہے، چاہے اس کے نتیجے میں کامیابی ملے یا نہ ملے۔ دوسری طرف شہباز شریف مقتدرہ سے اپنے اچھے تعلقات کی بنیاد پر مستقبل کے انتخابات میں نون لیگ کے لئے امید کی جوت جگا سکتے ہیں لیکن فی الحال انہیں اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔

میری رائے میں آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں شکست کے بعد نون لیگ کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے اور اب ایسی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہئے کہ جس سے اگلے انتخابات میں فتح حاصل کی جا سکے۔ ن لیگ اپنے ماضی کے کارناموں کو فخر سے بیان کرتی ہے مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے مخالف اسی ماضی کو ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اصل بات ماضی نہیں، مستقبل ہے۔ ن لیگ نے مستقبل کی بات کرنی چھوڑ دی ہے جبکہ انتخابات جیتنے کے لئے مستقبل کے خواب دکھانا بہت ضروری ہے۔

ایک زمانے میں عمران خان بھی مریم نواز کی طرح کرائوڈ پلر تھے مگر انتخابات نہیں جیت پاتے تھے پھر انہوں نے انتخابی گھوڑے پارٹی میں ڈالے، مقتدرہ کے ساتھ ہاتھ ملایا تب جا کر عمران خان انتخابی بیانیہ تخلیق کرنے کے قابل ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی مثال لے لیجئے۔ پیپلز پارٹی جارحانہ بیانیے کی وجہ سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ کی حامل تھی مگر 1988کا انتخاب جیتنے کے لئے انتخابی گھوڑوں کی مدد لی گئی اسی وجہ سے پیپلز پارٹی 1988میں حکومت بنا سکی تھی۔

ن لیگ کی تنظیمی اور پارلیمانی سوچ میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کی پہلی قطار میں بیٹھنے والےزیادہ تر لیڈرز شہباز شریف کی سوچ کے حامل ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح مقتدرہ سے ہاتھ ملا کر ن لیگ کو دوبارہ سے فیورٹ بنایا جائے لیکن پارلیمانی قیادت کے اس بیانیے کی تاحال نواز شریف کے ہاں شنوائی نہیں ہو رہی۔

راولپنڈی اور فیصل آباد ڈویژن کے سوا نون لیگ نے پچھلے انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور اب بھی پنجاب کے بڑے شہروں میں اس کا ووٹ بینک مستقلاً موجود ہے لیکن خطرہ یہ ہے کہ تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں تقریباً ایک ہی معاشی سوچ کی حامل ہیں۔ دونوں ہی مڈل کلاس اور دائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ اگر تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی بہتر ہوتی گئی تو نون کا ووٹر تحریک انصاف کی طرف جا سکتا ہے۔ یہی خطرہ تحریک انصاف کو بھی نون سے ہے، اگر تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی بری ہوئی تو تحریک انصاف کا ووٹر ناراض ہو کر نون لیگ کا حامی بن سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں ایک ہی کلاس اور نظریات کی ترجمان جماعتیں ہیں۔

میاں نواز شریف سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں، وہ کئی الیکشن جیت چکے ہیں اور کئی بحرانوں سے نکل چکے ہیں۔ ماضی میں بھی وہ اپنی پارٹی کے اندر دو بیانیوں کو ایک ساتھ چلاتے رہے ہیں اور ووٹر کے کنفیوژن کو اپنے حق میں استعمال کرتے رہے ہیں لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ دو متضاد بیانیوں کے اس پیچیدہ کھیل کو آگے چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ گو نواز شریف خود جارحانہ بیانیے کے قائل ہیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ مفاہمانہ رویہ رکھنے والے شہباز شریف کو پارٹی صدر بھی انہوں نے خود ہی بنایا ہوا ہے گویا مفاہمانہ بیانیے کے سر پر بھی ان کا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ نواز شریف دونوں بیانیوں کو اس لئے ایک ساتھ چلارہے ہیں کہ سیاسی طور پر جو بیانیہ زیادہ قابلِ عمل اور فائدہ مند ہو‘ اس کو اپنا لیا جائے۔

اگرچہ آئندہ الیکشن کو دو سال رہتے ہیں لیکن عملی طور پر اس حکومت کے لئے ایک سال ہی باقی ہے کیونکہ آخری سال میں معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ عمران خان کو ایک وزیر نے یہ مشورہ دیا ہے کہ آپ انتخابات ایک سال پہلے کروا لیں کیونکہ اِس وقت حالات زیادہ سازگار ہیں ممکن ہے کہ پانچ سال بعد حالات اتنے زیادہ سازگار نہ رہیں۔ عدلیہ اور مقتدرہ کا مزاج بدل گیا تو الیکشن کا رنگ بھی بدل جائے گا۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ عمران خان وقت سے پہلے انتخابات کروانے کا سوچیں البتہ اگر پنجاب میں تحریک عدم اعتماد آئی اور تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت غیرمستحکم ہوئی تو پھر عمران خان انتخابات کروانے میں جلدی کریں گے اور اسمبلیاں توڑ کر میدان میں اترنے کو ترجیح دیں گے۔

اب سے سیاست کا رُخ آئندہ الیکشن کی طرف ہوگا، نئی صف بندیاں ہوں گی، نئی منصوبہ بندی ہو گی۔ اگر ن لیگ کو دبانا مقصود ہوا تو ن لیگ کے اندر دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور اگر اگلی باری تحریک انصاف کو نہیں ملنی تو پھر تحریک انصاف کے اندر سے ایک نیا باغی گروپ پیدا ہو گا جس کا توڑ کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔

( بشکریہ روزنامہ جنگ)

0Shares

Comments are closed.