مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے سیاسی استحکام بنیادی شرط ہے، وزیراعظم

FILE - Pakistan's opposition leader Shahbaz Sharif speaks during a press conference after the Supreme Court decision, in Islamabad, Pakistan, April 7, 2022. Pakistan’s parliament elected Sharif as the country’s new prime minister on Monday April 11, 2022, after a walkout by lawmakers from ousted Premier Imran Khan’s party. (AP Photo/Anjum Naveed, File)

فائل:فوٹو

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے سیاسی استحکام بنیادی شرط ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے وفاداری اور دوستی کا تقاضا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام ہو کسی کی کوشش ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے تو ایسا نہیں ہوگا، نہ کرنے دیں گے.

سیاسی استحکام اور میثاق معیشت ہی پاکستان کہ قومی سلامتی کو مضبوط کر سکتی ہے، ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں بچھانے والے اب سیاسی نظام کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی سازش کر رہے ہیں.

انھوں نے کہا کہ جس طرح آئین کی طاقت سے ملک کو جھوٹی اور راشی حکومت سے نجات دلائی تھی، اب عوام کو روٹی، روزگار کی پریشانیوں سے نجات دلائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی شرپسند انتشار پھیلا کر دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ کریں اور سیلاب متاثرین اپنے گھروں میں آباد نہ ہوں سیلاب متاثرین کو سردی، بھوک اور بیماری سے بچانے میں سیاسی شریروں کا کوئی حصہ نہیں، یہ سیاسی مطلب پرستی اور خودغرض ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے سیاسی بے روزگاروں سے نجات لازم ہے قوم کو سوچنا ہوگا کہ جب جب ملک معاشی ترقی کی طرف چلنا شروع ہوتا ہے تو فسادی لشکر کیوں متحرک ہوجاتا ہے؟ کوئی شک نہیں رہا، ایک ایجنڈے کے تحت معاشی تباہی کی گئی.

شہبازشریف نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام بھی اسی کا تسلسل ہے عوام کا اعتماد توڑنے والے اب اسمبلیاں توڑ رہے ہیں، مقصد سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔

ان کہناتھا کہ پاکستان کے عوام کی حالت پر رحم کریں، مہنگائی، بے روزگاری کے عذاب سے انہیں نجات دلانا سیاست ہے پاکستان سابق چار سال کی معاشی تباہی سے زہرناک مہنگائی کا شکار ہوا.

عوام کی زندگیوں سے یہ زہر ختم کرنے دیں، رکاوٹیں مت کھڑی کریں سیاسی استحکام اور میثاق معیشت ہی پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط کر سکتی ہے۔

Comments are closed.