فولکنر کا توہین آمیز رویہ، پی سی بی کا آئندہ نہ کھلانے کا اعلان

لاہور(سپورٹس ڈیسک)آسٹریلوی کرکٹر جیمز فولکنر کا ہوٹل میں توڑ پھوڑکے بعد پی ایس ایل سے دستبردار ہوگئے، فولکنر کا توہین آمیز رویہ، پی سی بی کا آئندہ نہ کھلانے کا اعلان ،سی بی کا غلط بیانی اور توہین آمیز رویہ پر آئندہ فوکنر کو نہ کھلانے کا اعلان سامنے آیا ہے.

آسٹریلوی کرکٹرکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کررہے ہیں پیمنٹ ایشو پر دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے الزام لگایا کہ میرے ساتھ معاہدہ کی پاسداری نہیں کی، انھوں نے پاکستان میں اپنے فینز سے معذرت بھی کی ہے.

سوشل میڈیا پر بیان میں انھوں نے موقف اختیار کیا ہےکہ میں پاکستان کرکٹ فینز سے پی ایس ایل سے دستبردار ہونے پر معذرت خواہ ہوں، اگلے دو میچز میں شرکت نہ کرسکوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے میرے ساتھ کیے گئے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔میں پی ایس ایل کے تمام میچز کے لیے یہاں آیا تھا اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں مدد کرنا چاہتا تھا.

فوکنر نے کہا پیمنٹ کے حوالے سے پی سی بی کے رویے سے تکلیف پہنچی۔میرے ساتھ جو برتاؤ کیا گیا ہے وہ عزت دینے والا نہیں۔ پی ایس ایل چھوڑنے کے لیے تکلیف ہورہی ہے.

ذرائع کے مطابق جیمز فالکنر نے احتجاجاً لاہور میں ہوٹل پراپرٹی کو بھی نقصان پہنچایا اور اس وقت وہ نشے کی حالت میں تھے جبکہ ہوٹل میں نقصان کا ازالہ چیک آؤٹ کے وقت پی سی بی نے کیا۔

دوسری طرف اس ایشو پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ
جیمز فالکنر نے عدم ادائیگی سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیےہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیمز فالکنر کے قابل مذمت رویے سے مایوس ہیں، فالکنر پاکستان سپر لیگ 2021کے ابوظبی مرحلے کابھی حصہ تھے جہاں شریک دیگر تمام ارکان کے ہمراہ ان کے ساتھ بھی احترام کا رویہ اختیار کیا گیا۔

پی ایس ایل کی 7 سالہ تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی نے کبھی بھی عدم ادائیگی کی شکایت نہیں کی، اس کے برعکس تمام کھلاڑیوں نے ہمیشہ پی سی بی کی کوششوں کو سراہا ہے ، زیادہ تر کھلاڑی 2016 سے پی ایس ایل کا حصہ ہیں۔

پی سی بی کا مزید کہنا ہے کہ دسمبر 2021 میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے ادائیگی کے لیے اپنے یوکے کے بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کی، جسے نوٹ کرلیا گیا، جنوری 2022 میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے آسٹریلیا میں موجود ایک آن شور اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کیں.

لیکن اس وقت تک جیمز فالکنر کی 70 فیصد ادائیگی یو کے میں ان کے آف شور اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی تھی اور جیمز فالکنر نے اس منتقلی کی تصدیق بھی کی تھی۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق جیمز فالکنر کو 70 فیصد تک تمام ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، بقیہ 30 فیصد ادائیگی پی ایس ایل 2022 کے اختتام کے 40 روز کے اندر کی جانی تھی تاہم اس پر اب نظر ثانی کی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فالکنر کا اصرار تھا کہ انہیں دوبارہ آسٹریلیا کے آن شور اکاؤنٹ میں تمام رقم بھیجی جائے یوکے کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کے باوجود جیمز فالکنر کا اصرار تھا کہ انہیں دوبارہ آسٹریلیا کے آن شور اکاؤنٹ میں تمام رقم بھیجی جائے.

اس کا مطلب تھا کہ انہیں دو مرتبہ ادائیگی کی جائے، جیمز فالکنر نے نے رقم منتقل نہ کرنے پر گزشتہ روز (جمعے کو) ملتان سلطانز کے اہم میچ میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی.

اس موقع پر ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے پی سی بی نے جمعہ کی دوپہر جیمز فالکنر سے رابطہ کیا، اس دوران توہین آمیز رویے کے باوجود جیمز فالکنر کو یقین دلایا گیا کہ ان کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے گا.

انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے ایک اہم میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اترنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی سے انکار کر دیا اور فوری طور پر اپنے سفری انتظامات ترتیب دینے کی ہدایت کردی۔

اعلامیہ کے مطابق روانگی سے قبل جیمز فالکنر نے ہفتے کو جان بوجھ کر ہوٹل کی املاک کو نقصان پہنچایا، اس دوران پی سی بی ان کے ایجنٹ کے دوران مسلسل رابطے میں رہا، جو پشیمان اور معذرت خواہ تھے۔

اس کے بعد پی سی بی کو امیگریشن حکام سے بھی جیمز فالکنر کے رویے کی شکایات موصول ہوئیں جو وہاں گالم گلوچ کر رہے تھے، اس تناظر میں پی سی بی نے جیمز فالکنر کی سنگین بدتمیزی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا.

پی سی بی نے فرنچائزز کے ساتھ مل کر متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ جیمز فالکنر کو مستقبل میں ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے کسی ایونٹ میں ڈرافٹ کے لیے شامل نہیں کیا جا ئے گا. 

0Shares

Comments are closed.