ہری پور یونیورسٹی نے طلبہ سے فیسیں وصول کرلیں ، ریگولر کلاسز شروع نہ کیں

ہری پور( قاضی نواز )یونورسٹی آف ہری پور میں طلبہ سے ہزاروں روپے فیسیں وصول کرنے کے باوجود بھی ایم ایس کی ریگولرکلاسز شروع نہ کی جاسکیں ، کورونا پابندیاں ختم ہونے کے باوجود آن لائن کلاسز لینے کا فیصلہ کرنے پر طلبہ نے احتجاج کرنا شروع کردیا۔

ملک بھر میں کرونا کی موثر روک تھام کے بعد تمام جامعات میں ریگولر کلاسز شروع ہوچکی ہیں جبکہ یونیورسٹی آف ہری پور میں متعلقہ حکام کی نااہلی کی بدولت ایم ایس ایم فل پروگرامز کی کلاسز کو ان لائن کرانے پر طلباء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یونورسٹی آف ہری پور کی انوکھی پالیسی نہ لاک ڈاون ہے نہ کرونا کی پابندیاں ہیں اس کے باوجود ایم ایس ایم فل پروگرامز کی چند مبینہ من پسند طلباء کی ایماء پر ان لائن کلاسز شروع کردی گئی ہیں۔

میڈیا کے استفسار پر وی سی ہریپور نے دونوں طرز پر کلاسز لینے کا اظہار کیا ہے لیکن تاحال کوئی ریگولر کلاسز منعقد نہ ہوئیں اور جب کلاسز ہی نہیں ہو رہیں تو طلبہ لیب یا سپروائزرز کے پاس جا کر کیا کریں گے ؟یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ کیا اتنے فنڈزہیں کہ دو طرز کا نظام چل سکے۔

آن لائن کلاسز کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کا موقف ہے کہ ہم سے یونیورسٹی آف ہری پور نے فی کس20سے25 ہزار روپیہ ریگولر کلاسز کی مد میں وصول کیے ہیں۔

یہ ایڈمیشن فنڈ اکٹھا کیا جائے تو تقریباً 20لاکھ روپے بنتے ہیں مگر اس کے باوجودآن لائن کلاسز ہوتی ہیں تو یہ فیصلہ ہمیں منظور نہیں ہے اور اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ کو ریگولر کی مد میں وصول کی گئی فیسیں ہمیں واپس کی جائیں۔

اس سلسلہ میں جب میڈیا کے اس نمائندہ نے یونیورسٹی آف ہری پور کے وائس چانسلر انوارالحسن گیلانی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ فی الحال طلبہ کو لیب اور سپروائزر تک رسائی دی گئی ہے ویکسی نیشن مکمل ہونے کے بعد ریگولر کلاسز کی طرف جائیں گے۔

جب انھیں یاد دلایا گیاہے بی ایس کی ریگولر کلاسز جاری ہیں کیا سارے طلبہ ویکسی نیٹڈ ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ویکسی نیشن کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم وہ یہ وضاحت کرنے سے قاصر رہے کہ اگر بی ایس طلبہ کی ریگولر کلاسز ہو سکتی ہیں تو ایم ایس کی کیوں نہیں؟

وی سی یونیورسٹی آف ہری پور کے نوٹس میں یہ بات بھی لائی گئی کہ طلبہ فیسیں جمع کرانے کے باوجود بھی آن لائن کلاسز شروع نہ کرنے پر احتجاج کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر کلاسز ریگولر نہیں ہیں تو فیسیں واپس کی جائیں۔

جب طلبہ کی تشویش اور فیس وصولیوں کے باوجود ریگولر کلاسز شروع نہ ہونے پر سوال کا واضح جواب نہ دے سکے تو وائس چانسلر نے جواب میں کہا کہ وہ یونیورسٹی کے معاملات میں مداخلت پسند نہیں کرتے، حالانکہ کہ یونیورسٹی کے معاملات نہیں طلبہ کی پڑھائی ضائع ہونے کا معاملا اٹھایا گیا ۔

0Shares

Comments are closed.