پاکستان کی غیر حاضری میں بھی کوالالمپور میں کشمیر کاتذکرہ،بھارت پرتنقید


فوٹو : اے ایف پی

کوالالمپور(ویب ڈیسک)پاکستان کی کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کے باوجود کانفرنس امت مسلمہ کے مسائل میں کشمیر کا ذکر بھی ہوا اور بھارت میں امتیازی شہریت قانون پر تنقید بھی کی گئی.

عرب ٹی وی کے مطابق کانفرنس میں اقتصادی معاملات کے ساتھ مسلم امّہ کو درپیش مسائل بشمول کشمیر، شام، یمن کے تنازعات اور میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ سلوک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر رہا ہے۔

مہاتیر محمد نے بھارت کے شہریت کے متنازع قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت خود کو سیکولر ملک کہتا ہے لیکن وہ مسلمانوں کی شہریت چھیننے کا اقدام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے متنازع قانون کی بھارت کو کیا ضرورت تھی؟ اس سے بھارت میں  ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی اور ہر کوئی متاثر ہو گا۔

  ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترک صدر رجب طیب اردوان نےکوالا لمپور سمٹ میں کلیدی خطاب کیا جب کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے بھی تقاریر کیں۔

مہاتیر محمد نے کوالالمپور کانفرنس سے خطاب میں اپنے تحفظ کیلئےغیر مسلموں پر انحصار ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ بڑی قوتوں کے مقاصد پورے نہ کرنے والوں پر پھر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں.

مہاتیر محمد نے کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اور قطر نے خود پر پابندیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے متاثر کُن ترقی کی ہے، دیگر مسلمان ممالک کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان میں سے کسی پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ انھوں نے گولڈ دینار کے ذریعے اور بارٹر سسٹم کے تحت باہمی تجارت کی تجویز پیش کی ہے۔

ملائیشیا میں چار روزہ کوالالمپور کانفرنس کے لیے اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے تمام 57 رکن ممالک کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے جن میں سے 20 ممالک کے رہنماؤں اور وفود نے کانفرنس میں شرکت کی۔

یاد رہے کانفرنس میں شریک نہ ہونے والے ممالک میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں اور ترک صدر نے پاکستان کی عدم شرکت کو سعودی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا تھا جب کہ سعودی سفارتخانہ نے تردید کی تھی.

0Shares

Comments are closed.