آخر بابر یعقوب ہی کیوں؟

عثمان خان

تحریک انصاف بحیثیت پارٹی اور اس کے سربراہ جناب عمران خان ہر معاملے میں شفافیت اور میرٹ کا دم بھرتے نہیں تھکتے تھے لیکن جب حالات نے پلٹا کھایا اور مقدر نے اقتدار دلوایا تو پھر کون سی شفافیت اور کون سا میرٹ وزیر اعظم اور تحریک انصاف کا نصیب ،نعرہ اور منشور بن گیا ۔

جناب عمران خان کے پاس کیونکہ اب اپوزیشن کئ سیاست نہیں بلکہ ملک کی حکمرانی ہے ،اسی لئے ایسے منصب پر ہوتے ہوئے کبھی انسان بدقسمتی سے اپنی زہانت ،فطانت کے ہاتھوں لاچار ہوتا ہے تو کبھی “دوسروں “کی خواہشات کی تکمیل میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ اپنا کہا بعد میں سنائی نہیں دینا اور اپنا کیا دھرا بھی نظر نہیں آتا ۔

بات چونکہ شخصیات کی ہو رہی ہے اس لئے جناب عمران خان کی یاد دہانی کے لئے کہ حضور شخصیات اداروں کی محتاج ہو سکتی ہیں لیکن ادارے کبھی کسی شخص کے مرہون منت نہیں ہو سکتے ،،لہذا نیت ٹھیک ہو تو اللہ کئ طرف سے فیصلے بھی درست سمت میں ہوتے ہیں تاہم اگر آپ خود شخصیات کے محتاج ہوں تو پھر فیصلے  آپ کی سوچ کے مطابق نہیں بلکہ کرم فرماؤں کی خواہشات کے مطابق آگے بڑھتے ہیں.

جیسا کہ ان دنوں حکومت کا اپوزیشن کے آگے ایک شخص کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہو جانا بھی ایک پیغام ہے اور اس کے اشارے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے الیکشن کمیشن میں دیئے جا رہے ہیں جہاں اس وقت  چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے ارکان کی نامزدگی کی جانی ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ وزیر اعظم کو اتنا مجبور کیا جا رہا ہے کہ جو تین نام ویر اعظم کی جانب سے سامنے آئے ہیں ان میں سے بھی ایک ہی نام کو حرف آخر کی طرح لیا جا رہا ہے .

الیکشن کمیشن کے سربراہ کے لئے چھ ناموں میں صرف ایک ہی ایسا فرشتہ ہے جو کمیشن کی شفافیت ،غیر جانبداری اور ساکھ کو بچانے کے ساتھ ساتھ ملک میں آئندہ ہونیوالے انتخابی عمل کو بھی آزادانہ بنانے کے لئے ناگزیر ہے اور وہ صرف اور صرف بابر یعقوب فخح محمد کا نام ہی گونج رہا ہے جس فورم پر ان عہدوں کو حتمی شکل دی جانی ہے .

اس پارلیمانی کمیٹی کی اب تک صرف دو اجلاس ہی ہو سکے،،،جہاں پر اپوزیشن کی جانب سے بابر یعقوب فتح محمد کے نام کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ،حکومت کی جانب سے وجہ پوچھی گئی تو اپوزیشن نے موقف اپنانا کہ الیکشن دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کی “باریک واردات “کے پیچھے بھی انہی بابر یعقوب کا نام سامنے آتا ہے۔

،،نواز شریف کے دور حکومت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن بنانے کی باری آئی تو اس وقت کے وزیر اعظم کو ان موصوف کے بارے میں بڑی تفصیل سے بتایا گیا کہ یہ افسر ن لیگ سے بغض رکھنے والے سیاسی نظریات کی حامل شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اگر انہیں الیکشن کمیشن میں تعینات کیا گیا تو اس کا اصل نقصان ن لیگ کو ہو گا۔

یہ بھی بتایا گیا کہ بابر یعقوب کی طرف سے کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نہیں آیا لیکن چونکہ اس وقت نواز شریف بھی خواص میں گھرے ہوئے تھے اسی لئے اپنے کار خاص فواد حسن فواد کے چکر میں آکر سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات کر دیا۔ اس کے بعد بابر یعقوب نے ن لیگ اور پی پی سے کے عزائم سامنے آئے تو اپنے بھائی کی سیاست بچانے کے لئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے۔ نہ صرف بھائی کے لئے حلقہ تخلیق کیا بلکہ برسر اقتدار پارٹی تحریک انصاف کا ٹکٹ دلوانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف رہے .

اب انکی ایک سال کی توسیع بھی اپنے اختتام کو پہنچنے کے قریب آئی تو ادارے کے سربراہ کے طور پر حکومت نے نئی خواہش اپوزیشن کے سامنے رکھ دی اور اس ڈھٹائی کے ساتھ کہ بات ہو گی تو صرف بابر یعقوب کے نام کی ورنہ ہم کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ،،،مجھے پورا یقین ہے کہ یہ “فرشتہ صفت بیوروکریٹ “کو عمران خان خود ذاتی طور پر تو نہیں جانتے .

چونکہ حکومتی طبلچی جس زوروشور سے بابر یعقوب کا ڈنکا بجا رہے ہیں اس سے تاثر مل رہا ہے کہ یہ پرچی بھی جس انداز میں کہیں سے عمران خان کی “جھولی “میں ڈالی گئی ہے اور استخارہ کرنے والوں نے  حکومت پر واضح کر دیا ہے الیکشن کمیشن کو چلانا ہے تو بابر یعقوب کو ہی لانا ہے ۔۔۔اس لئے اب چاہئے اصولوں کو قربان کرنا پڑے یا زور زبردستی سے کام لینا ہو ،،،ہو گا وہی جو خاص حلقوں کی فرمائش ہو گی .

وزیر اعظم نے اگر اپنی ساکھ بچانی ہے تو فیصلے بھی خود ہی کرنا ہونگے ورنہ یہ نا ہو کہ کچھ لوگوں کے بہکاوے میں آکر دوسروں کی خواہشات کئ تکمیل کرنے پر کل افسوس اور شرمساری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ،،،لہذا چیف الیکشن کمشنر کے لئے بابر یعقوب کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کئ جانب سے دیئے جانیوالے پانچ دیگر شخصیات بھی ایک سے بڑھ کر ایک نگینہ ہے .

لیکن الیکشن کمیشن کی انگوٹھی میں وہ نگینہ ہی ٹھیک بیٹھے گا جسے خلائی طاقتوں کی آشیر باد حاصل ہو گی ،،،تاہم وزیر اعظم کئ جانب سے آنیوالے دنوں میں یہ وضاحت بھی ضروری ہو گی کہ آخر بابر یعقوب ہی کیوں ناگزیر ہیں ؟

0Shares

Comments are closed.