سابق جج عدالت پیش نہ ہوئے ، حلف نامہ ریکارڈ کا حصہ نہیں، ہائیکورٹ

اسلام آباد:سابق جج عدالت پیش نہ ہوئے ، حلف نامہ ریکارڈ کا حصہ نہیں، ہائیکورٹ  کے ریمارکس، نوازشریف اور مریم نواز کو جیل سے باہر نہ آنے سے متعلق حلف نامے پر خبر دینے والے صحافی عدالت پیش تاہم سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم پیش نہ ہوئے اور بیٹے کو عدالت بھیج دیا.

انکشافات پر مبنی سٹوری پر عدالتی نوٹس پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو ئی سابق جج رانا شمیم کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ان والد کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لیے انھوں نے مجھے بھیجا ہے.

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حلف نامہ بظاہر جھوٹا ہے یہ تین سال بعد آیا ہے اور اس میں عدالت پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت نوٹسز پر سماعت میں ریمارکس دیئے ہیں کہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا حلف نامہ جوڈیشل ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نےنواز شریف اور مریم نواز کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں سے متعلق خبر پر سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، صحافی انصار عباسی ، خبر شائع کرنے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے خلاف توہین عدالت کیس پر سماعت کی۔

اس دوران جسٹس اطہر من اللہ نے خبر شائع کرنے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر کو روسٹرم پر بلا کر ریمارکس دیئے کہ آزادی اظہار رائے بھی بہت ضروری ہے لیکن انصاف کی فراہمی بھی اہم ہے، آپ کی رپورٹ نے لوگوں کے حقوق کو متاثر کیا ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ سماعت شروع نہ کرتا، میں نے سماعت اس لیے شروع کی کیونکہ ہم بھی احتساب کے قابل ہیں، اس عدالت کے ہر جج نے کوشش کی کہ عوام تک انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے.

ریمارکس میں کہا اگر عوام کا اعتماد عدلیہ پرنہ ہو تو یہ بہت الارمنگ ہے، آپ ایک بڑے میڈیا ہاؤس اور اخبار کے مالک ہیں، اگر کوئی حلف نامہ کہیں بھی دے دے تو کیا آپ اس کو پہلے صفحے پر چھاپ دیں گے؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی انصار عباسی سے استفسار کیا کہ یہ حلف نامہ تو جوڈیشل ریکارڈ کا بھی حصہ نہیں، 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ہوئی ، 16 جولائی کو اپیلیں فائل ہوئیں.

اطہر من اللہ نے کہا کہ میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت بیرون ملک چھٹی پر تھے، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے سامنے کیس مقرر ہوا، اپیلوں کی پیروی خواجہ حارث کررہے تھے، کیا آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ الیکشن سے پہلے کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کی انہوں نے کوئی درخواست کی تھی؟

خواجہ حارث جانتے تھے کہ اسی روز سزا معطل ہو ہی نہیں سکتی ، عدالت نے سب سے جلدی کی تاریخ 31 جولائی کی دی کیونکہ ان دنوں چھٹیاں تھیں، جس جج کا نام آپ نے لکھا نہیں اور عدلیہ پر سوال اٹھا ہے، لوگوں کا عدالت پر اعتماد تباہ کرنے کے لیے باتیں بننا شروع ہو گئیں، کیا اس عدالت کا جج کہیں سے ہدایات لیتا ہے؟

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ میری عدالت کے جج کے گھر یا چیمبر میں کوئی رسائی لے رہا ہے تو میں اس کا جواب دہ ہوں، اگر رانا شمیم یا انصار عباسی ثبوت لے آئیں تو میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف کارروائی کروں گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز انگریزی اخبار کی ایک خبر میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حلف نامے کو بنیاد بنا کر خبر ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی.

حلف نامے میں رانا شمیم نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 14جولائی 2018 کو ایک 27 رکنی وفد کے ہمراہ گلگلت بلتستان آئے تھے، وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لان میں بیٹھے تھے اور ٹیلی فون پر ہدایات دے رہے تھے۔

سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے، انھیں ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کے پاس جاؤ۔ اس جج سے میری بات کرواؤ اور اگر بات نہ ہو سکے تو اس جج کو میرا پیغام دے دیں.

پیغام یہ تھا کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے۔ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو میاں ثاقب نثار پُرسکون ہو گئے.

0Shares

Comments are closed.