حماس کی جنگ بندی معاہدے کی تجاویز منظوری کے باوجود اسرائیل کا رفح پر حملہ ، 5 بچے شہید

This picture taken from southern Israel near the border with the Gaza Strip shows smoke billowing following an Israeli strike on the Palestinian territory on November 20, 2023, amid ongoing battles between Israel and the Palestinian Hamas movement. (Photo by John MACDOUGALL / AFP)
46 / 100

فائل:فوٹو

غزہ: حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی تجاویز منظوری کے باوجود اسرائیل نے رفح پر حملہ کر دیا، ایک گھر پر بمباری کے نتیجے میں 5 بچے شہید ہو گئے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ وہ فریم ورک نہیں ہے جسے ہم نے منظور کیا تھا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے غزہ جنگ بندی کی تجاویز منظور کر کے ثالثوں کو جنگ بندی کی منظوری سے آگاہ کر دیا، حماس نے مصری اور قطری ثالث کاروں کو جنگ بندی کی تجویز کے ساتھ اپنے معاہدے سے بھی آگاہ کیا۔

 اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی منظور کردہ تجاویز اسرائیل کے مطالبات سے دور ہے لیکن اسرائیلی حکومت مذاکرات کیلئے ایک وفد بھیجے گی ساتھ ہی جنگی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے رفح پر کارروائی جاری رکھیں گے۔

ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ وہ فریم ورک نہیں ہے جسے ہم نے منظور کیا تھا، حماس نے جن تجاویز سے اتفاق کیا ان کے کچھ ایسے ’دور رس‘ نتائج ہوں گے جنہیں اسرائیل قبول نہیں کر سکتا۔

حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی تجاویز منظور کرنے کے باوجود اسرائیل نے رفح پر حملہ کر دیا، عالمی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی رفاہ میں اسرائیلی حملے شروع ہو گئے ہیں، صیہونی فوج شہر کے مشرق میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، رفح میں بڑے پیمانے پر توپ خانے سے فائرنگ کی جا رہی ہے جبکہ ٹینکوں کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔

اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل فلسطینی علاقے میں مشرقی رفح کے باشندوں کو "توسیع شدہ انسانی علاقے” کی طرف زبردستی بھیجنا شروع کر دیا، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مشرقی رفح سے تقریباً ایک لاکھ افراد کو نکال رہے ہیں، شہریوں کی منتقلی کیلئے پوسٹرز، ایس ایم ایس پیغامات، فون کالز اور عربی میں میڈیا کی نشریات کے ذریعہ پیغامات پہنچائے گئے۔

ادھر سعودی عرب نے اسرائیل کو رفح پر حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی خونی منظم مہم پہلے ہی فلسطینیوں کو دربدر کر چکی، اسرائیل غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری روکے، عالمی برادری نسل کشی آپریشن رکوانے کیلئے مداخلت کرے۔

حماس نے اسرائیل کی طرف سے رفح پر حملے کی علامات میں تیزی آنے کے ساتھ ہی اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج یاد رکھے کہ رفح اس کیلئے پکنک پوائنٹ ثابت نہیں ہو گا بلکہ اسرائیلی فوج کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی، اسرائیلی حملے کا جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہیں، جنگ کا پھیلاوٴ بہت خطرناک ثابت ہو گا۔

رفح غزہ کا انتہائی جنوب میں واقع شہر ہے جو مصری سرحد پر واقع ہے، اس شہر میں مصر اور غزہ کے درمیان آمد و رفت اور نقل و حمل کیلئے اہم ترین راہداری بھی ہے،رفح میں غزہ سے بے گھر ہو کر آنے والے لاکھوں فلسطینی بھی پناہ لیے ہوئے ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کیلئے مجبور کرنا شروع کر دیا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً 7 ماہ سے جاری جنگ کے دوران فلسطینی علاقے میں کم از کم 34,735 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، غزہ کی پٹی میں 78,108 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Comments are closed.