فیک نیوز ۔آرڈیننس کی کھلی کھڑکی

محبو ب الرحمان تنولی

جھوٹی خبر۔۔عنوان پرکشش ، قابل قبول اوربظاہرغیر متنازعہ ہے مگرنتائج بھیانک ہوں گے۔۔جعلی یا جھوٹی خبر ۔۔ کی تعریف بھی کی جانی ضروری ہے۔۔ کسی زمانے میں امریکہ نے اقوام متحدہ سے افغانستان کے خلاف جارحیت کیلئے سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔۔ اس کو ‘دہشتگردی کے خلاف جنگ’ قرار دیاگیا تھا۔۔امریکی پراپیگنڈا اتنا زور دار تھا کہ دنیا بھر سے اٹھی ہوئی نحیف آوازیں اس میں دب گئی تھیں۔۔ متذکرہ قرارداد منظور ہونے کے اگلے دن کالم میں راقم نے بھی یہ سوال سب کیلئے چھوڑا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی تعریف کون کرے گا؟

وقت نے ثابت کیا کہ یہ خدشہ درست تھا۔۔ جہاں جہاں امریکہ کو کارروائی کی ضرورت پڑ ی ،وہاں’ دہشتگردی کے خلاف جنگ’ کا فارمولہ فٹ کیا اور چڑھ دوڑے۔۔اسی عرصہ میں جب اسرائیل نے فلسطین کے خلاف جارحیت کی اور بیسیوں بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا تو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے دینے والے امریکہ نے اسے ‘سیلف ڈیفنس ‘کہہ کر استثنیٰ دے دیا۔۔جوں جوں وقت گزرتا گیا دہشتگردی کے خلاف جنگ وہی کہلائی جسے امریکہ نے سند عطا فرمائی۔

امریکی پیش قدمیوں کی اس تعریف کے تحت کھلواڑ بہت ہیں لیکن ہم واپس ‘فیک نیوز’پر آتے ہیں۔۔حکومت کو اگر’ پریوینشن آف الیکڑانک کرائم ایکٹ 2016 ” ‘میں ترمیم کرنا ہی تھی تو پارلیمنٹ کے زریعے قانون سازی کی جاتی تو شاید یہ عمل سب کیلئے قابل قبول ہوتا ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آرڈیننس کی بھی آئین میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔۔لیکن یہ یکطرفہ ٹریفک ہے۔۔وزیر قانون نے سزا میں اضافے اور اطلاق کی تشریح کردی ہے مگر متعد د سوالات جواب طلب ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ جھوٹ یا جعلی خبر کی تعریف کیا ہے؟ اور صرف صحافیوں سے کیوں جوڑا جارہاہے؟ جعلی یا جھوٹی خبر کا دفاع کرنا ہر گز مقصود نہیں ہے۔۔ تاہم یہ خدشہ موجود ہے جس صحافی یا ادارے سے حکمران نا خوش ہوں گے ۔۔ شخصیات کو چڑ ہوگی ۔۔وہ اٹھ کر عدالت چلے جائیں گے۔۔کیا عدالت جانے والا اگر جھوٹ ثابت نہ کرسکا تو اسے بھی سزا ہوگی؟ دوسرا اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ایک عام آدمی کی درخواست عدالت چلی گئی تو اس پر بھی سماعت ہوگی ؟ اگر ایک وزیر کی درخواست اور عام آدمی کی درخواست بیک وقت عدالت جائیں توبرابر شہری سمجھے جائیں گے؟

ہماری عدالتوں میں عام آدمی کے کیسز سالوں سے التواء میں پڑے ہوتے ہیں اور سیاستدانوں یا اہم شخصیات کے کیسز کی فوری باری آ جاتی ہے عام آدمی کی نہیں آتی ۔۔اگر عام آدمی کو یہ یقین ہوکہ کوئی حکومتی شخص جھوٹ بولے گا تو وہ اس کے خلاف عدالت جاسکتا ہے اور اسے انصاف ملے گا تو پھر تو یہ قانون قابل قبول ہو سکتاہے۔۔ کیونکہ ماضی میں اسی جماعت نے35پنکچر کی جھوٹی خبر چلوائی تھی اورجب بہت عرصہ بعد اس پر جواب دینا پڑا تو اسے سیاسی بیان قرار دے دیاگیا تھا۔

سیاستدان اور ادارے اگر چاہتے ہیں کہ فیک نیوز نہ چلے توانھیں بھی اس فیک نیوز کی فہرست میں شامل کرنا چایئے۔۔سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ بولتے اور الزامات لگاتے ہیں اگر کوئی ثابت نہ کرسکے تو وہ بھی قابل گرفت ہوں۔۔ نہ ثابت ہونے والا الزام بھی۔۔ فیک نیوز۔۔ کے زمرے میں آنا چایئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ پوری قوم کے سامنے دھڑلے سے جھوٹ بولیں۔۔ بعض قومی نوعیت کے انتہائی اہم معاملات پربھی ۔۔ فیک نیوز۔۔ صرف میڈیا کی قابل گرفت ہو۔

کہیں پولیس مقابلہ غلط ثابت ہو جائے ۔۔جھوٹی ایف آئی آر درج ہوتو وہ بھی ۔۔ فیک نیوز۔۔ کی طرح اسی قانون کے تحت عدالت میں قابل سزا جرم ہونا چایئے۔۔اداروں کا آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں پکڑا جانے والا جھوٹ بھی ۔۔ فیک نیوز ۔۔ ہونا چایئے۔۔کوئی وزیر جھوٹ بول کر بجلی ، گیس ، پٹرول کی قیمت بڑھائے۔۔ اور عالمی منڈی کایا کوئی اور غلط حوالہ دے اور ثابت ہو جائے کہ وہ حوالہ غلط دیاگیاہے تو پھر وہ بھی۔۔۔فیک نیوز۔ کی طرح قابل گرفت سمجھا جائے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاستدان، ادارے یا اہم شخصیات جھوٹ بولیں تو ان کو جھوٹ بولنے کی چھٹی اور اگر صحافی کو دبوچنا ہو تو آپ اس پر قانون کی تلوار لٹکا دیں۔۔ سارے حوالے کے باوجود میں ذاتی طور پر ۔ فیک نیوز۔ کا دفاع نہیں کرنا چاہتا۔۔ لیکن اس کی شفافیت کا متقاضی ہوں۔۔ مجھے یہ کہنے میں احتمال نہیں کہ سیاسی جماعتوں نے صحافیوں میں بھی اپنی پارٹیاں بنا لی ہیں۔۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے صحافی ان جماعتوں کی سیاسی کارکنوں کی طرح حمایت اور ترجمانی کرتے ہیں۔

فیک نیوز۔۔ کی ایک فیکٹری تو سیاسی جماعتوں نے خود لگائی ہوئی ہے۔۔ جس میں وہ اہم اجلاسوں اورتقریباً ت کے بعد خود ‘اندرونی کہانی’کے نام سے خبر کے بعد خبر چلواتے ہیں ۔۔ اور اس میں عموماً وہ مواد دیا جاتاہے جسے انھوں نے شائع یا نشر کروانا ہوتاہے۔۔حیرت انگیز طور پر وہی اندرونی کہانی ملک بھر کا میڈیا چلا رہا ہوتاہے۔۔ یہ کیسی اندرونی کہانی ہوتی ہے جو سب کے پاس پہنچ جاتی ہے۔۔یہ پراپیگنڈا بھی عموماً اندرونی کہانی کہہ کر چلایا جاتاہے۔۔ اصل اندرونی کہانی وہ ہوتی ہے جو صرف ایک میڈیا ہاوس چلائے باقیوں کے پاس نہ پہنچے ۔

اگر عام شہری کسی سیاستدان، وزیر ، مشیر یا بڑی شخصیت کے جھوٹ کو عدالت میں لے کر جاسکتا ہو۔۔ اور عدالت اسی قانون کے تحت شہری کی درخواست سنتی ہے تو پھر کسی ‘فیک نیوز ‘کامرتکب ہو کر قابل گرفت ہو نے والے کو بھی شایدکوئی اعتراض نہ ہو۔۔کل اگر وزراء کہیں کہ اپوزیشن کے 10ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ مل گئے ہیں۔۔ یا اپوزیشن کہے21ہمارے ساتھ ہیں۔۔یہ خبریں شائع یا نشر ہو جائیں ۔۔ واضح ہو جائے کہ یہ بیانات جھوٹے تھے۔۔ ظاہر ہے یہ بھی ‘فیک نیوز’ہی ہے۔۔ تو کیا بیان دینے والے قابل گرفت ہوں گے؟ یا صرف میڈیا؟

سوال یہ پیدا ہوتاہے آپ سچ کو عام یا سچی خبر کی روایت چاہتے ہیں تو پھر خود بھی آئیں احتساب کے دائرے میں۔۔ آپ جھوٹ بولیں۔ ۔ جھوٹ بول کر پورے پورے ادارے کھا جائیں۔۔ جھوٹ بول کر قومی خزانے لوٹتے رہیں ۔۔ آپ کے دعوے غلط ثابت ہوں۔۔ آپ کے وعدے گل سڑ جائیں مگر پورے نہ ہوں۔۔ آپ کے سیاسی اعلانات عملی شکل تک نہ پہنچیں تو کیا یہ’فیک نیوز’نہیں ہیں؟

ہاں ‘فیک نیوز ‘کی سزا ان کو ضرور ملنی چاہئیے جو سوشل میڈیا کے نام سے گمنام مورچے سنبھال کر لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں۔۔ غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں ۔۔پراپیگنڈا کیلئے سوشل میڈیا ٹیمیں بنی ہوئی ہیں۔۔ جو صحافی نہیں ہیں لیکن سوشل میڈیا پر صحافی بنے ہوئے ہیں۔۔وہ این جی اوز مافیاجو باہر سے فنڈنگ لے کر یہاں شرپھیلاتے ہیں۔۔ جس پارٹی کے سوشل میڈ یا اکاوئنٹ سے گندی زبان استعمال ہو یا بے بنیاد الزامات لگیں ۔۔ اس جماعت کے قائد یا سوشل میڈیا ٹیم بنانے والے کو قابل گرفت ہونا چاہئیے۔

ارباب اختیار’فیک نیوز’کا شکنجہ کسنے سے پہلے صحافی تنظیموں کے نمائندے اورمتعلقہ وزراء بیٹھ کر ‘فیک نیوز’کی کوئی متفقہ تعریف فائنل کر لیتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔۔ کیونکہ اس طرح تو آپ کی مرضی ہے جس کے گلے میں یہ پھندا ڈال دیں۔۔حکمران یہ بات بھی پیش نظر رکھیں کہ حکومتوں کے بنائے گئے قانون اکثر انہی کے گلے میں پھنس جاتے ہیں۔۔ یہ طے نہیں ہے کہ آپ ہی رہیں گے۔۔ہوسکتا ہے جن کے زریعے آپ اپنا نقطہ نظر آگے لاتے ہیں وہ ہی کل پھنس جائیں۔

گزشتہ تین دہائیوں سے ہم ایک تنقید سنتے آرہے ہیں جو ہر حکومت کے خلاف ہوتی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے کہ قانون سازی پارلیمنٹ میں ہونے کی بجائے آرڈیننس آ جاتاہے۔۔ریکارڈ اٹھا کردیکھ لیں موجود ہ حکمران جماعت سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتیں مختلف ادوار میں آرڈیننس لانے پر اعتراض کرتی رہی ہیں اگر چہ آرڈیننس کے زریعے قانون لانے کو آئینی تحفظ حاصل ہے پھر بھی اگر سب معترض ہیں تو پھر سب جماعتیں مل کر یہ آرڈیننس کے تحت قانون سازی کو ختم کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ کھڑکی کسی اور کیلئے کھلی رکھی ہوئی ہے۔

0Shares

Comments are closed.