مانتے ہیں پاکستان کرکٹ کیلئے بڑا دھچکا ہے ،نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

اسلام آباد( سپورٹس ڈیسک)نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان ملتوی ہونے پر یہ اعتراف کیاہے کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے لیکن ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔

کیوی کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے پاکستان سے متعلق تھریٹ لیول بڑھانے اور گراؤنڈ پر موجود سکیورٹی ایڈوائزرز کی ایڈوائس پر فیصلہ کیا گیا کہ بلیک کیپس دورہ پاکستان جاری نہیں رکھیں گے۔

کیوی بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائیٹ کے بیان میں کہا گیاہے کہ کھلاڑیوں کی وطن واپسی کے انتظامات کیے جارہے ہیں،ہمارے لیے دورہ جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

بیان میں کہا گیاہے کہ نیوزی لینڈ حکومت نے سیریز ختم کرنے کا فیصلہ سکیورٹی الرٹ کی وجہ سے کیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے لیکن ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ یہ پی سی بی کے لیے نقصان دہ ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت اہم ہے اور یہی معقول آپشن ہے، کھلاڑی اچھے ہاتھوں میں ہیں، وہ محفوظ ہیں اور ہر ایک اپنے بہترین مفاد کے مطابق کام کر رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ہیتھ ملز نے ڈیوڈ وائٹ کے بیان سے ہم آہنگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے میں شریک رہے اور فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

حکومت پاکستان کے ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیر وزیراعظم سے رابطہ کیا اور انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فول پروف سکیورٹی میسر ہے۔

http://

نیوزی لینڈ کی سکیورٹی ٹیم نے پاکستان کے سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھاوزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کی بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں اور ان کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی یقین ہانی کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے احتیاط کی پالیسی کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے نیوزی لینڈ کی طرف سے اچانک دورہ پاکستان منسوخ کرنے پر ہم چپ نہیں رہیں گے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایاگیاہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جاوید نے کہاکہ جب آپ کی سکیورٹی ٹیم آئی ہے اس نے گرین سگنل دیاہے آپ ان کی رپورٹ پر پاکستان آئے ہیں تو پھر اچانک راتوں رات ایسا کیا ہو گیا تھا یہ سوالیہ نشان ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں ہے حالیہ عرصہ میں جنوبی افریقہ ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور زمبابوے کی ٹیمیں پاکستان آ کر کھیل چکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل بھی پاکستان میں ہی کھیلی گئی، کشمیر پریمئر لیگ کھیلی گئی اس سے پہلے ایم سی سی بھی پاکستان کادورہ کرچکاہے بلکہ کیوی ٹیم گراونڈ میں گئی ہوٹل میں رہی کہیں کوئی ایشو نہیں تھا۔

انھوں نے کہا پی ایس ایل چھ میں تمام انٹرنیشنل کھلاڑی پاکستان میں کرکٹ کھیل کر گئے ہیں ہم نے اتنی محنت کے بعد حالات بہتر کئے پوری عالمی برادری اس کی معترف بھی ہے۔

انھوں نے کہا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کئی ممالک کے سربراہان آتے ہیں مگر سکیورٹی کاکوئی ایشو نہیں آیا، فیصل جاوید نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر خاموش نہیں رہے گے ۔

0Shares

Comments are closed.