صحافی عمران ریاض کے خلا ف درج مقدمہ خارج کرنے کاحکم، رہا کردیا گیا

لاہور: صحافی عمران ریاض کے خلا ف درج مقدمہ خارج کرنے کاحکم، رہا کردیا گیا، لاہور کی مقامی عدالت نے ٹیلی ویژن اینکر عمران ریاض کے خلاف مقدمہ خارج کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا

عمران ریاض کا رہائی کے بعد زبردست استقبال کیا گیا لوگوں کی بڑی تعداد نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے عمران ریاض کو سچ بولنے پر ان کی پذیرائی کی۔

جمعرات کو عمران ریاض کو جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اورسماعت کے دوران ایف آئی اے نے عمران ریاض کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کی استدعا کی تھی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھاجو جمعہ کو سنایا گیا۔

عمران ریاض کی طرف سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست میں کوئی وجوہات بیان نہیں کی ہیں۔

ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض پر نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، اینکر کے خلاف پہلے بھی اسی نوعیت کت 21 مقدمے درج ہیں۔

عمران ریاض کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی ان کے موکل کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

 واضح رہے کہ جمعرات کو عمران ریاض کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد لاہور کی مقامی عدالت نے عمران ریاض کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

جمعرات کو ہی عمران ریاض کے بھائی نے اُن کو عدالت میں پیش نہ کرنے کا اقدام جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے چیلنج کیا تھا، درخواست میں موقف اپنایا کہ عمران ریاض کو ایف آئی اے نے غیرقانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو رات گئے ایک ٹوئٹر سپیس میں عمران ریاض نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ بیرون ملک جانے کے لیے ایئر پورٹ پر موجود ہیں جہاں اُن سے کہا گیا ہے کہ وہ بلیک لسٹ ہیں اس لیے کہیں نہیں جا سکتے۔

اس کے بعد ٹی وی اینکر کے ٹوئٹر ہینڈل سے اُن کی سوشل میڈیا ٹیم نے ٹویٹ کیا کہ ’عمران ریاض کو ایف آئی اے نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے،ایئرپورٹ سٹاف نے موقع پر موجود لوگوں کو غلط معلومات دیں اور اُن کو پچھلے دروازے سے لے جایا گیا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.