صحافی ارشد شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود خرم نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

50 / 100

فوٹو: فائل

اسلام آباذ: صحافی ارشد شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود خرم نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا، دونوں ایک ہی گاڑی میں موجود تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی۔

پاکستان سے گئی ہوئی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بیان میں خرم احمد اوراس کے بھائی وقاراحمد نےتفصیلات بتائی ہیں دونوں کراچی کے رہنے والے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کے لیے پاکستانی افسران نے فائرنگ کے واقعے میں معجزانہ طور پر بچ جانے والے کراچی کے شہریوں وقار احمد اور خرم احمد سے کینیا میں پوچھ گچھ کی۔

رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا گیاہے کہ دونوں بھائیوں خرم احمد اور وقار احمد سے واقعے سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔

وقار احمد نے بتایا کہ کسی دوست نے ارشد شریف کی میزبانی کا کہا تھا، ارشد شریف میرے گیسٹ ہاؤس پر 2 ماہ سے قیام پذیر تھے، نیروبی سے قبل ارشد شریف سے صرف ایک بار کھانے پر ملاقات ہوئی تھی۔

اس حوالے سے جیو نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ وقار احمد نے بتایا کہ نیروبی سے باہر اپنے لاج پر ارشد شریف کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔

 واقعے کے روز ارشد شریف نے لاج پر ساتھ کھانا کھایا، کھانے کے بعد ارشد شریف میرے بھائی خرم کے ساتھ گاڑی میں نکلے، آدھے گھنٹے بعد گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع آئی۔

خرم احمد نے بتایا کہ لاج سے نکلنے کے بعد 18 کلومیٹر کا کچا راستہ ہے اور پھر سڑک شروع ہوتی ہے، سڑک شروع ہونے سے تھوڑا پہلے کچھ پتھر رکھے تھے۔

پتھروں کو کراس کرتے ہی جب فائرنگ ہو گئی تو، فائرنگ سے خوفزدہ ہوکر گاڑی بھگانے کی کوشش کی گئی۔

وقار احمد نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ خرم فائرنگ کے واقعے کے دوران معجزانہ طور پر محفوظ رہے،بعد میں ارشد شریف کے زیر استعمال آئی پیڈ اور موبائل فون کینیا کے حکام کے حوالےکیا۔

دونوں بھائیوں نے پاکستانی تحقیقاتی افسران کو بتایا کہ ارشد شریف نیروبی منتقل ہونے کا سوچ رہے تھے اور اس کے لیے انہوں نے ویزے کی مدت میں بھی توسیع کروا لی تھی۔

Comments are closed.