"شہباز اسپیڈ” کا پہلا بجٹ!!

ابو خلدون

بالآخر شہباز حکومت نے سخت ترین معاشی حالات میں اپنا پہلا بجٹ پیش کردیا ،اگر موجودہ حکومت اپنی مدت پوری بھی کر لے تو بھی اس کے پاس طویل المدتی بنیادوں پر منصوبے بنانے کے لئے ذیادہ وقت نہیں ،اس کے باوجود بجٹ 2023ء کے خدوخال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے ملک میں زرعی و صنعتی ترقی کا پہیہ تیز کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دینے کی کوشش بھی کی ہے۔

بجٹ میں جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے وہی دیگرتنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لئے انکم ٹیکس کی کم سے کم حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کردی گئی ہے جو کہ خوش آئندہ امر ہے ،اسی طرح چالیس ہزار سے کم آمدنی والوں کے لئے دو ہزار روپے امداد کا اعلان کیا گیا.

ساتھ ہی ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے اور تعلیمی وظائف بھی ایک کروڑ طلباء تک بڑھائے جارہے ہیں۔ بلوچستان کے طالب علموں کو 5 ہزار تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے جب کہ اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے ’ایچ۔ای۔سی‘ کے بجٹ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 67 فیصد اضافہ کیاجارہا ہے۔

تعلیم کے ساتھ صحت بھی عوام کی بنیادی ضرورت ہے ،گزشتہ کچھ سالوں سے ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے عوام کے لئے جسم و جاں کا رشتہ بحال رکھنا دشوار ہوگیا ہے ، تاہم موجودہ حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود بجٹ میں ادویات بنانے میں استعمال ہونے والے اجزاءکو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل استثنٰی دے دیاہے ،اس سے ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے جس سے غریب آدمی کو کچھ نہ کچھ ریلیف ملے گا۔

ہمارے ملک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں زیادہ تر سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ جیسے غیر پیداواری شعبہ میں ہوتی آئی ہے جس سے غریبوں کے لئے گھروں کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ حکومت نے غیر پیداواری اثاثوں پر ٹیکس لاگو کر کے اچھا اقدام کیا ہے اس سے جائیداد کی قیمتوں میں کمی ہوگی اور غریب اور متوسط طبقے کے لئے بھی چھت کا حصول ممکن ہوسکے گا۔

حکومت نے چھوٹے کاروبار خاص طور پر کاروباری خواتین کے لئے کم ازکم ٹیکس بریکٹ 4 لاکھ سے 6 لاکھ کردی ہے اس سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونگے جب کہ حکومت نے نچلی طبقے کو ریلیف دینے کے لئے سیونگ سرٹیفکیٹ (بچت سکیموں)، پینشن فوائد، شہداءکے اہل خانہ کی فلاح وبہبود کے کھاتوں میں سرمایہ کاری پر منافع پر لاگو ٹیکس کو10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔

اس کمی کی دیگر ذرائع سے پورا کیاجائے گا ،کوئی ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتا ، ہمارے ہاں ہمیشہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے انتہائی کم رہی ہے ،موجودہ حکومت دکانداروں کا ڈیٹا جمع کر کے ان پر تین ہزار سے دس ہزار روپے تک فکس ٹیکس لگانے کا نظام لا رہی ہے جس سے یقینا ٹیکس کا دائرہ کار بڑھے گا اور حکومتی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

ہمارے ملک کی معیشت کا بیشتر دارومدار زراعت کے شعبے پر ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے اس شعبہ سے وابستہ مشینری اور اجناس پر ٹیکس کی وجہ سے کاشتکاروں کے لئے اپنا سرکل چلانا مشکل ہوگیا تھا ،موجودہ حکومت نے اس پریشانی کو بھانپتے ہوئے بجٹ میں زرعی مشینری، ٹریکٹر، گندم، چاول، بیج سمیت اس شعبے میں استعمال ہونے والی دیگراشیاءاور ان کی ترسیل پر ٹیکس صفر کردیا ہے.

بجٹ دستاویزات کے مطابق زرعی مشینری کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی دیاجارہا ہے۔ زرعی شعبے کی مشینری، اس سے منسلکہ اشیائ، گرین ہاﺅس فارمنگ، پراسیسنگ، پودوں کو بچانے کے آلات، ڈرپ اریگیشن، فراہمی آب سمیت ہر طرح کے زرعی آلات کو ٹیکس سے استثنٰی دیاجارہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ٹیکس صفر کرکے اتنا بڑا قدم اٹھایا گیا ہے اور اسکے مثبت اثرات یقینا نظر آئیں گے۔

اس وقت ملک میں فوری توجہ طلب مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ہے تاہم حکومت نے بجٹ میں صنعتوں کے لئے زیرو لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے ، صنعتیں چلیں گی تو ہی معیشت کا پہیہ چلے گا ۔کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے جہاں عوام کی آمدن بڑھتی ہے وہی حکومت کو بھی اسکا حصہ ٹیکس کی صورت میں ملتا ہے۔

یہی ٹیکس کا پیسہ حکومت واپس ترقیاتی کاموں اور سبسڈی کی صورت میں عوام کو واپس لوٹا دیتی ہے تاہم اس سارے سرکل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے ۔ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کا حل یہ بھی ہے کہ ملک میں موجود قدرتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کی جائے۔

اس کے لئے سولر انرجی سب سے بہترین اور سستا ذریعہ ہے ۔حکومت نے سولر پینل کی درآمد پر ٹیکس صفر کردیا ہے ،اس سے عام لوگ اپنے گھروں میں سولر انسٹال کروانے کیطرف راغب ہونگے اور ان گھروں سے بچنے والی بجلی حکومت صنعتوں اور دیگر شعبوں کو دے سکے گی۔
Sidharukh@gmail.com

0Shares

Comments are closed.