وزیراعظم شہباز اپنے اعلان پر عمل درآمد کرانے میں ناکام

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام)وزیراعظم شہباز اپنے اعلان پر عمل درآمد کرانے میں ناکام، یکم جون سے ملک بھر میں 2 گھنٹے کااعلان کیا تھا.

شاہد خاقان عباسی اب ساڑھے 3 گھنٹے پر چلے گئے ہیں جب کہ عملاً 10 گھنٹے سے زائد کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ سی این جی کا تو حکومت نام بھی نہیں لیتی جو تین ماہ سے مکمل بند ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم ہمراہ پریس کانفرنس باقی وزرا کی طرح سابق حکومت پر الزامات سے آغاز کیا اور گا گے گی پر لوڈ شیڈنگ ختم کردی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہیں۔ پچھلی حکومت نے 4 سال تک عوام سے جھوٹ بولا، ان کے دور میں ايک ميگاواٹ بھی بجلی نہيں بنی، منگل سے لوڈشیڈنگ کم کرکے ساڑھے 3 گھنٹے پر لے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے 4 سال تک عوام سے جھوٹ بولا، ان کے دور میں ايک ميگاواٹ بھی بجلی نہيں بنی، ایل این جی کیلئے کوئی نیا سودا نہیں کیا، وہ ملک پر خودکش حملہ کرکے جاچکے ہيں، انہوں نے آئی ايم ايف سے اپنے ہی کیے ہوئے معاہدے کو توڑا۔

شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ حکومت پٹروليم مصنوعات پر ايک پيسہ ٹيکس نہيں لے رہی، عالمی منڈی ميں قيمتيں کم ہوں گی تویہاں بھی کم ہوجائيں گی۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ کل سے لوڈشیڈنگ کم کرکے ساڑھے 3 گھنٹے پر لے آئیں گے، 16 جون سے لوڈ شیڈنگ 3 گھنٹے سے بھی کم ہوجائے گی، 30 جون سے لوڈ شیڈنگ 2 گھنٹے سے بھی کم ہوجائے گی اور جولائی میں لوڈشیڈنگ کو مزید کم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

سابق وزیر اعظم نے کہابجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ سے بڑھ چکی ہے، ملک میں موجود ذرائع سے 18 ہزار میگاواٹ بجلی بن سکتی ہےجس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ہمیں جو کچھ ملا ہے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کرتے ہیں، ہم نے بہانے نہيں کرنے،مشکلات کامقابلہ کرنا ہے۔

0Shares

Comments are closed.