وہ ایک پاگل انا پرست!

مقصود منتظر

وہ اتنا پاگل تھا.. کہ امیروں کو مراعات دینے کے بجائے مزدور کے آرام اور دووقت کی روٹی کیلئے پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھولے…..

وہ اتنا بے وقوف تھا… کہ سرمایہ داروں کو خوش کرنے اور چوروں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بجائے آخر تک ان سے ٹکر لی اور اسی ٹکر میں اپنی کرسی بھی گنوا دی…

وہ بڑا ہی نااہل تھا….. گونگی عوام کو بولنا سکھایا… ان کی شکایات اور مسائل سننے اور ان کے ازالے کیلئے پورٹل قائم کیا….

وہ ذہنی مریض تھا…. کیونکہ عام اور غریب مریضوں کے مفت علاج کیلئے ہیلتھ کار جاری کیا….

وہ اتنا بڑا نالائق تھا… کہ کورونا وبا کے دوران غریب اور کم آمدن والے گھرانوں کو ماہانہ بارہ بارہ ہزار روپے دینے کے ساتھ وائرس سے نمٹنے کیلئے ایسی پالیسیز بائیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا….

مقصود منتظر 

وہ سخت انا پرست تھا…. ہر فورم پر اسلام اور ملک دشمنوں سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کی…

وہ واقعی انا پرست تھا….. لیکن جب بھی اللہ کے حبیب کے دربار میں گئے ننگے پاؤں گئے…اپنی ہستی مٹا کر ایک پاگل اور دیوانے کی طرح گئے..

وہ جھوٹا تھا….. کیونکہ اسے سچ چھپانے کی مکاری کرنی نہ آئی…

وہ سیاست دان نہ تھا… کیونکہ اسے سیاہ ست اور مکاری کرنی نہیں آئی…

وہ پیسے کا بھوکا تھا….. اسی لیے اپنی اے ٹی ایم مشینیں کہلانے والے دو بڑے سرمایہ داروں کو ناراض کیا….

وہ بے قوف تھا…. اسلامو فوبیا کے خلاف پوری دنیا کو اپنا دشمن بنایا….

وہ کشمیر فروش بھی تھا….. کیونکہ وہ روایتی سیاسی بیان بازی کے بجائے کشمیریوں کی خودمختاری کی بات کرتا تھا
وہ جاہل اور کم عقل تھا…. لیکن موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کیلئے بلین ٹری کا کانسپٹ دیا…

اسے کچھ معلوم ہی نہیں تھا لیکن پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیکر نئی تاریخ رقم کی…..

وہ غلام تھا… لیکن جس بھی عالمی فورم پر گیا قمیض شلوار پہن کر اپنی اصل ثقافت دنیا کو دکھا دی….

وہ نشئی تھا لیکن جوان نسل کو اللہ کے رسول کی سیرت میں ڈھلنے کی تاکید کرتا رہا..

وہ فتنہ اور شر تھا لیکن بات ایاک نعبدوایاک نسطتعین سے شروع کرکے مدینہ کے ماڈل کی بات کرتا تھا…..

وہ مودی کا یار بھی تھا….. اور گجرات اور کشمیریوں کے قاتل کو فاشسٹ اور ہٹلر کہتا تھا…. آر ایس ایس کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا….

وہ اتنا ضدی تھا کہ دنیا کے سوپر پاور کو ابسلوٹلی ناٹ کہہ کر اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیا….

وہ واقعی پاگل تھا…. تب ہی تو عوام کو پاگل اور بے وقوف سمجھنے والی الگ سیاسی مخلوق اسے پاگل خان کہتی رہی…..
وہ واقعی انا پرست تھا کیونکہ اس نے ملکی وسائل پر ستر سال سے عیاشی کرنے والے سیاستدانوں… جرنیلوں.. ججوں.. سرمایہ کاروں… وڈیروں… مافیاز اور اشرافیہ کو جوتے کی نوک پر رکھا……

وہ واقعی پاگل تھا پاگل کہیں کا…..

0Shares

Comments are closed.