پنجابی سکھ گلوکار شبھدیپ سنگھ سدھو موسےوالا کو قتل کردیاگیا

فوٹو : فائل

امرتسر(ویب ڈیسک) بھارت میں پنجابی سکھ گلوکار شبھدیپ سنگھ سدھو موسےوالا کو قتل کردیاگیا ، کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے سدھو کی صوبائی حکومت نے سکیورٹی بھی واپس لے لی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی صوبے پنجاب کے علاقے مانسا کے گاؤں جواہرکے میں نامعلوم ملزمان نے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا پر فارئرنگ کردی ۔

سدھوموسے والا شدید زخمی ہوگئے،انھیں تشویش ناک حالت میں مانسا کے سول اسپتال لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔

 

کانگریس رہنما اور پنجابی گلوکار شبھدیپ سنگھ سدھو موسےوالا کو آج شام ضلع مانسا میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا،بتایا گیا ہےوہ اپنے گاؤں سے چند دوستوں کے ہمراہ جیپ میں سوار ہو کر کسی سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

اٹھائیس سالہ گلوکار سدھو موسےوالا مقامی میڈیا کے مطابق اطلاعات ہیں کہ سدھو بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان سے سیکیورٹی مانگنے کے حوالے سے ہی ملاقات کرنے جارہے تھے۔

نامعلوم مسلح افراد نے ان کی جیپ پر فائرنگ کی۔ اس واقعے میں سدھو کے دو دوست بھی زخمی ہوئے۔رپورٹس کے مطابق ایک دن قبل ہی ان کی سکیورٹی واپس لی گئی تھی.

مقتول نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا تھا ۔پنجابی گلوکار سدھو موسے والا گلوکاری و سیاست کے ساتھ ساتھ بھارتی سکھوں کی بھی ایک متحرک آواز تھی۔

انہوں نے سکھوں اور کسانوں کی تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کا حصہ لیا تھا، سدھو موسے والا کا قتل اس وقت ہوا جب ایک روز قبل عام آدمی پارٹی کی پنجاب حکومت نے سدھو موسے والا سمیت 424 افرادکو دی گئی سیکیورٹی واپس لے لی تھی ۔

سدھو موسے والا نے رواں سال عام انتخابات میں کانگریس پارٹی کی ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا تھا مگر انہیں عام آدمی پارٹی کے امیدوار وجے سنگلا نے 63ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔

https://twitter.com/ayymi_khan/status/1530926122782838784?t=mUzAJw9oNrRV6a7CZyvhYQ&s=19

پنجابی گلوکار کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹویٹ کیا، "سدھو موس والا کے دن دیہاڑے قتل پر گہرا صدمہ ہے۔پنجاب اور دنیا پنجابیوں نے ایک باصلاحیت فنکار کو کھو دیا۔

اس واقعے کے بعد، بی جے پی لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے پنجاب وزیر اعلی بھگونت مان کے خلاف "وزیر اعلیٰ کے فرائض میں غفلت” پر ایف آئی آر کا مطالبہ کیا۔
حکومت کو متنبہ کرتے رہے ہیں۔

0Shares

Comments are closed.