وزیر اعظم کا 28 ارب روپے ریلیف پیکیج کا اعلان ، 10کلو آٹا 400 روپے میں ملے گا

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) پٹرول کی قیمتوں پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کےلئے وزیر اعظم کا 28 ارب روپے ریلیف پیکیج کا اعلان ، 10کلو آٹا 400 روپے میں ملے گا، سستا آٹا یوٹیلٹی اسٹورز پر مہیا کیا جائے گا۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 1 کروڑ 40لاکھ غریب گھرانوں کو 2 ہزار روپے دیے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ مہنگالی سے لوگ متاثر ہیں اس لئے ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان کے غریب عوام کو فوری طور پردو ہزار روپے ماہانہ دیے جا رہے ہیں، یہ ریلیف اس کے علاوہ ہے جو پہلے ہی ان خاندانوں کو دیے جارہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے، اتحادی جماعتوں کی حمایت باعث تقویت ہے، عوام نے مطالبہ کیا کہ کرپٹ حکومت سے جان چھڑائی جائے۔

وزیر اعظم نے کہا وزیراعظم کا منصب سنھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے، میں اپنے قائد نوازشریف اور جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اعتماد کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے مطالبہ کیا اس نا اہل اور کرپٹ حکومت سے ان کی فوری جان چھڑوائی جائے، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے عوام کی آواز پر لبیک کہا۔

ہم نے حکومت سبنھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا، ایسی تباہی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی جو چار سال میں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلی حکومت میں سفارتی خط کی نام نہاد سازش گھڑی گئی، ایک شخص مسلسل جھوٹ بول رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے سازش کی کہانی گھڑی گئی، امریکا میں ہمارے سفیر نے بھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کردیا، قومی سلامتی کمیٹی نے بھی دو مرتبہ سازش کی کہانی کو مسترد کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں کیا، عوام کو مہنگائی کی چکی میں آپ نے پیسہ ہم نے نہیں، ملک کو تاریخ کے بدترین قرض کے نیچے دفن کردیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میری خدمات عوام کے سامنے ہیں، ہمارے سامنے صرف اور صرف ایک مقصد ہے، ہم مشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، دنیا میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، سابق حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے سبسڈی کا اعلان کر دیا۔

انھوں نے کہا پاکستان اور عوام کو معاشی بحران میں سابق حکومت نے پھنسایا، پاکستان اور عوام کو معاشی بحران میں سابق حکومت نے پھنسایا۔

انہوں نے کہا کہ خارجہ محاذ پر بھی مشکلات بڑھائی گئیں، دوست ممالک کو ناراض کردیا گیا،اب ہم نے دو طرفہ تعلقات کی بحالی کا آغاز کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط آپ نے مانی ہم نے نہیں، ملک کومعاشی دلدل میں آپ نے دھنسایا ہم نے نہیں۔ ہم نے حکومت نے سنبھالی تو مہنگائی عروج پر تھی، ڈالر 2018 میں 115 پر چھوڑ کرکے گئے تھے، سابق حکومت کے پونے چارسال میں ڈالر189 تک پہنچ گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز دل پر پتھر رکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا لیکن یہ فیصلہ کیوں کیا یہ آپ کے سامنے لانا ضروری ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے ناگزیر تھا، اس نہج پر پاکستان کو گزشتہ حکومت نے پہنچایا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ارکان سے ملاقات کی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا، جس میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، بی اے بی کے خالد مگسی اور محسن داوڑ شامل تھے۔

اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔

اتحادیوں کے ملاقات میں بڑے فیصلے کر لیے گئے، حکومت نے اگست 2023ء تک مدت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے باعث موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کے لئے بڑے ریلیف پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے، پیکیج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سکیم کے زریعے دیا جائے گا۔

0Shares

Comments are closed.