اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شیریں مزاری کو رہا کر دیا گیا

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام)اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شیریں مزاری کو رہا کر دیا گیا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رات ساڑھے گیارہ بجے ہونے والی سماعت کے دوران شیریں مزاری نے بتایا کہ انھیں غیر قانونی گرفتار کیا گیا، تشدد بھی کیا، موبائل بھی چھین لیا۔

انھوں نے کہ کہ جب وارنٹ مانگے تو وہ بھی نہیں دکھائے، اسلام آباد پولیس نے مجھے روکا تھا ، کلر کہار تک لے کر گئے پھر واپس لے آئے۔

شیریں مزاری نے بتایا کہ جب ان سے پوچھا کہ کدھر لے کر جارہے ہیں تو مجھے بتایاگیا کہ تمہارے خلاف کیس ہے لاہور بھی جاسکتے ہیں اور آپ کے شہر میں بھی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ایسے ہی واقعات آپ کی حکومت میں بھی ہوئے ، ایک ایم این اے اب بھی جیل میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ غیر قانونی کارروائی پر کیوں نہ ڈپٹی کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، آئی جی اسلام آباد نےبتایا میں نے آج ہی چارج سنبھالا ہے۔

بعد میں عدالت نے حکم دیا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنائے جو کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کرے، بعد میں سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔

 اس سے قبل شیریں مزاری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا رات ساڑھے 11 بجے پیش کرنیکا کاحکم دیا تھا ، سیکرٹری داخلہ کوہدایت کی گئی ہے کہ شیریں مزاری کی عدالت پیشی کو یقینی بنایا جائے ۔

اسلام آباد ہائی کروٹ نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینت مزاری کی درخواست پر حکم نامہ جاری کیا گیا۔

عدالتی حکم میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیاگیاہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شیریں مزاری کو غیر قانونی طور پر اغوا کیاگیا ،عدالت نے شیریں مزاری کے غیر قانونی اغوا کے خلاف درخواست پر حکم نامہ جاری کیا.

عدالتی حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ حکام بتائیں عدالت کے دائرہ اختیار میں کس اٹھارتی کے تحت انسانی حقوق خلاف ورزی کی گئی.

اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نےاپنے گھر پہ درخواست پر سماعت کی ۔

واضح رہے تحریک انصاف کی سینئر رہنما کو اسلام آباد سے اینٹی کرپشن پنجاب نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے تھانہ کوہسار کی حدود سے گرفتار کیا ہے۔

0Shares

Comments are closed.