فیصلے کریں یا جائیں

انصارعباسی

اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو حکومت لی ہی کیوں تھی؟ ایک ایک دن انتہائی اہم اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشی طور پر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جا رہے ہیں، جس کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوں گے۔

 پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اُس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا لیکن اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا ہے تو جو نتائج ہوں گے اُس سے نہ صرف مہنگائی بہت زیادہ ہو جائے گی بلکہ پاکستان کی صورتحال سری لنکا سے بھی بدتر ہو جائے گی، ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے، ہماری معیشت کو بدترین صورتحال کا سامنا ہو گا، ملک کو خدانخواستہ خانہ جنگی کا ممکنہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا لیکن فیصلے یا تو لندن میں نواز شریف کے ہاتھ میں ہیں یا پھر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے مرہون منت۔ شہباز شریف کو وزیر اعظم اس لیے بنایا کہ وہ پرفارم کرنے والا سیاستدان ہے لیکن شہباز شریف کے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر رکھ دیے گئے اور پھر توقع یہ کی جا رہی ہے کہ وہ فیصلہ بھی نہ کرے اور ملک کو اس مشکل سے بھی نکال دے۔

 اب یہ بات مت کریں کہ عمران خان نے کیا ٹھیک کیا یا غلط۔ حکومت لی ہے تو فیصلہ کریں ۔ اب ذمہ داری اتحادیوں کی بالعموم اور ن لیگ کی بالخصوص ہے۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تواس سے موجودہ حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایک دن قیمتی ہے۔ اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو عمران خان کی حکومت کیوں ختم کی اور خود حکومت میں کیوں آ بیٹھے؟ اب معاملہ ن لیگ، پی ٹی آئی یا پی پی پی کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنے اپنے سیاسی فائدے یا نقصان کی خاطر پاکستان کا ہی نقصان کر بیٹھیں اور افسوس کہ یہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

 لندن میں تین سے زیادہ دن ضائع کر دیے مگر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ فیصلے نہیں کرنے تو حکومت چھوڑیں، وقت مت ضائع کریں۔ یہ دو دو وزرائے اعظم اور دو دو وزرائے خزانہ والا کھیل نہیں چل سکتا۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عمران خان کو مت نکالیں، اگر نکالیں تو فوری الیکشن کرائیں کیوں کہ درجن بھر اتحادیوں کے ساتھ کوئی حکومت نہیں چل سکتی اور یہاں اس حکومت سے توقع یہ کی جا رہی ہے کہ بڑے فیصلے کرے جس کے لیے نہ نواز شریف تیار ہیں، نہ زرداری اور نہ ہی مولانا فضل الرحمٰن۔ 

شہباز شریف کو اگر وزیر اعظم بنایا تھا تو اُنہیں شہباز شریف ہی رہنے دیتے۔ سب توقع تو کر رہے ہیں کہ وہ حالات کو فوری بہتر کریں لیکن فیصلوں کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے ہی نہیں۔ میری تو شہباز شریف سے گزارش ہے کہ آج ہی استعفیٰ دے دیں تا کہ نئی حکومت آئے اور پاکستان کو بچانے کے لیے فیصلہ کرے۔ ن لیگ نے پہلے غلط فیصلہ کیا اور عمران خان حکومت گرانے کے پلان میں شامل ہو گئی۔

 اب ن لیگ ایک اور غلطی بلکہ بہت بڑی غلطی کر رہی ہے کہ پاکستان کی بقا کی خاطر جو فیصلے کرنے ہیں اُن فیصلوں سے اس لیے کترا رہی ہے کہ اُسے کہیں سیاسی نقصان نہ ہو جائے۔ یعنی ن لیگ ، پی پی پی، جے یو آئی ایف وغیرہ کا سیاسی نقصان پاکستان کے نقصان سے زیادہ اہم ہے۔اب جو مرضی کر لیں، جتنا مرضی عمران خان کو بُرا بھلا کہہ لیں اگر پاکستان نے ڈیفالٹ کیا تو ن لیگ اور اتحادی اس میں برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔ابھی وقت ہے سوچ لیں، دیر مت کریں۔

 سری لنکا کے حالات پر نظر دوڑا لیں اور یاد رکھیں کہ اگر اپنے اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ پاکستان کو چڑھایا گیا تو پھر اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ اس لیے فیصلے کریں یا گھر جائیں، نہ یہ سیاست کا وقت ہے نہ ہی پاکستان کو لاحق فوری خطرات سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے. (بشکریہ روزنامہ جنگ) 

Comments are closed.