توہین مذہب کے مقدمات بنانا پاگل پن، قابل مذمت عمل ہے، فرحت اللہ بابر

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے توہین مذہب مقدمات بنانے کی مخالفت کر دی، کہا توہین مذہب کے مقدمات بنانا پاگل پن، قابل مذمت عمل ہے، فرحت اللہ بابر کا سوشل میڈیا پر بیان.

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما و سابق سینیٹر فرحت بابر نے ٹوئٹر پر بیان میں پی ٹی آئی کے حریف رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات بنانے کے مبینہ ارادے کو ‘انتہائی پریشان کن قرار دیا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں ہمیشہ ‘مذہب پر مبنی قوانین کو ہتھیار بنانے’ کی مخالفت کی ہے، اب بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آئندہ میں بھی مخالفت کرتے رہیں گے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے اس حوالے سے نجی ٹی وی ڈان نیوز سے گفتگو میں حکومت پر زور دیا کہ وہ سعودی حکام کی جانب سے حراست میں لیے گئے پاکستانی زائرین کو کونسلر کی رسائی فراہم کرے.

با الفاظ دیگر پیپلزپارٹی کے تجربہ کار سیاستدان نے یہ مطالبہ اپنی ہی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وزیر خارجہ ہونے کے باوجود کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب واقع کے بعد فیصل آباد، اٹک اور اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان سمیت 150 سے زائد افراد کے خلاف مقدس مقام کی بے حرمتی پر الگ الگ مقدمات درج کئے ہیں۔

حنیف عباسی شیخ رشید کی وگ سے متعلق بیان پر معافی مانگیں 

شیخ رشید کی وگ سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی حنیف عباسی کے بیان کی بھی مذمت کی ہے،فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ شخص نفرت، تشدد، لاقانونیت کو ہوا دے رہا ہے۔

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ اس طرح کے بیان پر اس کی مذمت کی جانی چاہیے، ناقابل قبول۔انھوں نے کہا عباسی معافی مانگیں۔ حکومت کو مشورہ دیا کہ اس سے خود کو دور کرنا چاہیے۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ آصف اور جاوید لطیف نے بھی توہین مذہب مقدمات کی مخالفت کی ہے ان کا موقف ہے کہ مدینہ واقعہ کے بعد تحریک انصاف دفاعی پوزیشن پر تھی مقدمات الٹا حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے.

0Shares

Comments are closed.