عمران خان کا مسجد نبوی میں نعرہ باز ی کے حوالے سے موقف سامنے آگیا

فوٹو: فائل

اسلام آباد( زمینی حقائق ڈاٹ کام)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان کا مسجد نبوی میں نعرہ باز ی کے حوالے سے موقف سامنے آگیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا وفد مسجد نبوی پہنچنے پر پاکستانیوں کی طرف سے ، چور ، چور کے نعرے لگانے کے بعد عمران خان پر الزام تراشی کی گئی تھی جب کہ وزیرداخلہ ثناء اللہ نے تو یہ بھی کہا کہ اس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی ہے۔

اس حوالے سے عمران خان کاکہنا ہے کہ میں تو ایسا کرنا تو دور کی بات ہے کہ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں کسی کو کہوں کہ وہ آوازیں لگائے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصا ف نے کہامجھے چھوڑیں کوئی بھی شخص جو حضورﷺ سے پیار کرتاہے وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اور میں بھی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

http://

عمران خان نے کہا کہ میں نے تو خود پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کی ہے میں ایسی مقدس جگہ پر لوگوں کو آوازیں دینے کیلئے کیسے کہہ سکتا ہوں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺسے عشق نہ ہوتوایمان مکمل نہیں ہوتا،خیال رہے سعودی عرب میں پاکستانیوں کی نعرہ بازی کا واقع گزشتہ روز پیش آیا تھا جب کہ جمعہ کو پھر شہباز شریف کی آمد پر چور چور کے نعرے لگے۔

واضح رہے عمران خان بطور وزیراعظم جب بھی سعودی عرب گئے ہیں انھوں نے مدینہ کی سرزمین پر قدم رکھتے وقت پاوں میں جوتے نہیں پہنے اور وہ ننگے پاوں روضہ رسولﷺ پر حاضری دیتے رہے ہیں۔

جس دن سعودی عرب میں یہ واقعہ پیش آیا اس دن بنی گالہ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے گھر میں یوم دعا کااہتمام کیا ہوا تھا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اس دعا میں شریک ہوئے ، اجتماعی دعا معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کرائی۔

http://


دوسری طرف وزیرداخلہ رانا ثنا ء اللہ نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نعرہ بازی کرنے والے پاکستانیوں کو پکڑ کر سزا دے اور جب ان کی سزا پوری ہو جائے تو ان پر تاحیات سعودی میں داخلہ کی پابندی لگا کر انھیں واپس پاکستان بھیج دے۔

سعودی عرب حکومت نے خود بھی متعدد پاکستانیوں کو گرفتار کرلیاہے اور بعض پر بھاری جرمانے کئے گئے ہیں اور قید کی سزا سنائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

0Shares

Comments are closed.