عدم اعتماد پر جیتا یا ہارا، اندرونی بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرونگا، وزیراعظم

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پاکستان فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، میں عدم اعتماد پر جیتا یا ہارا، اندرونی بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرونگا، وزیراعظم نے کہا نے خودداری کا اصول لے سیاست میں قدم رکھا ہے.

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر نوجوانوں مخاطب کرتے ہوئے کہا اللہ نے ہمیں دیا ہے تو ملک کیلئے سوچ کو بلند رکھیں.

انھوں نے کہا کہ میں پاکستان کی وہ نسل ہوں جو ملک بننے کے بعد پیدا ہوا، میرے والدین نے مجھے آزادی کی اہمیت بار بار بتائی، ہمارے پاس دو راستے ہیں یا خودار قوم بنیں یا آزاد رہ کر غلامی میں رہیں.

http://

انھوں نے جب خودداری کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہے آزاد خارجہ پالیسی، میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہمیشہ امن کی بات کی ہے لیکن ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں غلط کو غلط کہا ہے.

انھوں نے پرویز مشرف اور ضیاء الحق کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جب ان کی جنگ ختم ہوئی تو اسی امریکہ نے جو ہمارا اتحادی تھا اس نے ہم پر پابندیاں لگا دیں.

انھوں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں سے تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ تصور نہیں کر سکتے کتنی تباہی ہوئی، لوگ معذور ہوئے، شہید ہوئے، پھر بھی ڈو مور کرتے رہے.

ڈرون حملوں میں ہمارے مدرسہ کے 80 بچے شہید کر دئیے گئے، شادیوں کو ہدف بنایا گیا میں تب بھی ان ڈرون حملوں کی مذمت کرتا رہا لیکن اس وقت کے حکمران اور سیاستدان خاموش رہے.

http://

عمران خان نے کہا کہ ان حملوں کے متاثرین نے جواب میں اپنے ملک میں جواب دیا اور حملے کئے، قیمتی جانوں کا نقصان ہوا.

وزیراعظم نے دھمکی آمیز خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو خط ملا تب تک میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں آئی تھی یعنی ان کو پہلے پتہ تھا کہ تحریک آرہی ہے.

عمران خان نے کہا دھمکی آمیز خط میں مجھے بطور وزیر اعظم ہدف بنایا گیا، کہ اگر عمران خان پاکستان کا وزیراعظم رہا اور عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو نقصان ہوگا.

خط میں یہ کہا گیا کہ عمران خان کی جگہ کوئی اور آگیا تو ہمیں کوئی مسلہ نہیں ہوگا
انھوں نے کہا یہاں کون ہیں؟ تھری اسٹوجز، عمران خان نے کہا اسٹوجز کا مطلب ہے وفادار غلام.

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہمارے ان اسٹوجز کی اخلاقیات دیکھیں وہ بندہ جھوٹ بول کر برطانیہ بیٹھا ہے اور دوسرا جو ہے اس کی کہانیاں بھی سب جانتے ہیں.

http://

عمران خان نے کہا بیرونی طاقتوں کو پتہ ہے عمران کیسے سوچتا ہے، مشرف کے دور میں 11 ڈرون حملے ہوئے، نوازشریف اور آصف زرداری کے ادوار میں 400 حملے ہوئے لیکن ان کو مذمت کی جرت بھی نہیں ہوئی.

انھوں نے بھارتی لکھاری کی کتاب کا حوالہ دے کر کہا کہ نواز شریف چھپ کر مودی سے ملتے تھے، آصف علی زرداری صدر تھا تو پاکستان میں ہلاکتوں پر اس نے کہا تھا ہمیں اعتراض نہیں ہے.

امریکہ کے اتحادی تھے ڈرون حملے ہوتے رہے، بیرون ملک پاکستانیوں سے توہین آمیز سلوک کیا گیا

عمران خان نے کہا کہ جب وار آن ٹیرر چل رہی تھی تو بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا تھا لیکن وہ پاکستان کے بظاہر اتحادی تھے.

شہبازشریف نے کہا میں نے یورپی یونین پر تنقید کیوں کی؟ دھمکی آمیز خط پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا لیکن شہبازشریف شریک نہیں ہوئے اگر وہ آتے تو میں دکھاتا.

وزیراعظم نے کہا کہ اتوار کو عدم اعمتاد پر فیصلہ ہونے جارہا ہے، پتہ چل جائے گا ملک کدھر جائے گا؟ انھوں نے کہا مجھے استعفیٰ کا مشورہ دیا گیا لیکن میں آخری بال تک کھیلنے والا آدمی ہوں.

انھوں نے کہا جہاں جمہوریت ہو وہاں استعفیٰ دیا جاتا ہے جہاں منتخب نمائندوں کی کروڑوں کی قیمتیں لگی ہوں تو پھر ضمیروں کا سودا ہوا ہوا ہے.

عمران خان نے ایک بار پھر منحرفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ اگر آپ نے سودے بازی کی تو لوگ آپ کو معاف نہیں کریں گے اب بھی وقت ہے سوچ لیں.

وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دوں گا اگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں بیٹھ جاوں گا ایسا نہیں ہے میں مقابلہ کروں گا لوگ بھی غداروں کو معاف نہیں کرے گی.

عمران خان نے کہا میں پرچی دکھا کر چئیرمین نہیں بنا اور نہ کسی جنرل کے گھر سریا لگاتے لگاتے آگے آیا. میں جدوجہد کرکے آگے آیا ہوں اور مقابلہ کروں گا.

0Shares

Comments are closed.