ہائیکورٹ کا جے یوآئی کے سرینگر ہائی وے پر ممکنہ دھرنے کے خلاف حکم جاری

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) جے یو آئی آج اتوار بازار اسلام آباد میں جلسہ کرے گی، شرکاء کی آمد جاری ہے جب کہ دوسری طرف
اسلام آباد ہائیکورٹ کا جے یوآئی کے سرینگر ہائی وے پر ممکنہ دھرنے کے خلاف حکم جاری کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ این او سی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پر حکم جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کا اسٹیٹس دیکھے بغیر کارروائی کی جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، سیاسی جماعتیں اور رہنما قانون پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

عدالتی حکم میں کہا گیاہے کہ، تمام سیاسی جماعتیں جن کو این او سی جاری ہوا توقع ہے کہ وہ اس کی شرائط کر عمل کریں گی، امن عامہ کو برقرار رکھنا ریاست کا بنیادی فریضہ ہے، سڑکوں، راستوں اور عوامی تفریحی مقامات پر نظم و ضبط قائم رکھنا پولیس کا فرض ہے۔

، مجسٹریٹ کا اختیار ہے کہ وہ راستوں کی بندش، پریشانی یا خطرے سے بچنے کے لیے احکامات جاری کرے،سرینگر ہائی وے پر جے یو آئی کے ممکنہ دھرنے کے پیش نظر انتظامیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جے یو آئی رہنماؤں کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے اجتماعات کی اجازت کا معاملہ انتظامیہ پر چھوڑا تھا اور قرار دیا تھا انتظامیہ کے پاس سب معاملات دیکھ کر فیصلے کا اختیار ہے۔

http://

درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی ہدایات کی روشنی میں جے یو آئی کو اجتماع کا این او سی بھی جاری کیا، لیکن اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی اب سرینگر ہائی وے بلاک کر رہی ہے، این او سی کی خلاف ورزی پر جے یو آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔

درخواست میں مفتی عبداللہ اور مولانا عبدالمجید ہزاروی کو فریق بناتے ہوئے درخواست کی گئی کہ فریقین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے،ضلعی انتظامیہ نے جے یو آئی کو 25 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی تاہم جے یو آئی نے 26 مارچ کو جلسہ کرنے کی استدعا کی۔

0Shares

Comments are closed.