بلاول بھٹو کا آئین شکنی پر سپریم کورٹ سے رچوع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا آئین شکنی پر سپریم کورٹ سے رچوع کرنے کا فیصلہ، ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر چودہ دن میں اسمبلی کا اجلاس بلانے پر آئین معاملے پر عمل نہیں کیاگیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بلاول بھٹوزردایر نے کہا بزدل کپتان عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ رہا ہے، جو کپتان جیتنے والا ہو وہ نہیں بھاگتا۔
۔
بلاول کا کہنا تھا کہ ہم ہارے ہوئے شخص کو یا کسی اور شخص کو عوام کی قسمت سے کھیلنے نہیں دیں گے، عمران خان کی کوشش ہے جمہوری عمل سے بھاگیں۔

بلاول بھٹونے عمران خان سے متعلق کہا کہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ادارے نیوٹرل نہ رہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں آئینی بحران پیدا کیا جائے ، ہم چاہتے ہیں ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام نہ کرے تو تنقید کریں، وزیراعظم نے نیوٹرل کو جانورکہا، آج تک اس پر معافی نہیں مانگی۔

انہوں نے سندھ ہاؤس پر حملہ کیا، اس شخص نے پارلیمان پر اور لاجز پر حملہ کیا، تین سال کے دوران آپ ضمنی الیکشن ہارے، جعلی مینڈیٹ رد ہوا، آپ ایک ضمنی وبلدیاتی الیکشن نہیں جیت سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام آپ کی معاشی پالیسی سے نفرت کرتے ہیں، آپ نے مدینہ کی ریاست کے نام پر تین سال ملک میں تباہی کی

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم اور وزرا جو مہم چلا رہے ہیں اس کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جائے۔

بلاول بھٹو نے کہاوزیراعظم اور وزرا کی کوشش ہےکہ اداروں کو متنازع بنایا جائے، تاریخ میں لکھا جائےگا کہ کون سلیکٹڈ کے ساتھ کھڑا تھا اور کون جمہوریت کے ساتھ۔۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا مدینہ کی ریاست اس کی اجازت دیتی ہےکہ آپ ایسی زبان استعمال کریں،کیا مدینہ کی ریاست گنجائش دیتی ہےکہ غریب آدمی مر رہا ہو اور کوئی پرسان حال نہ ہو؟

0Shares

Comments are closed.