پارلیمنٹ، لاجز کو ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ

Pakistani Rangers cordon off the Parliament during an ongoing protest by followers of Imran Khan and Tahir-ul-Qadri in Islamabad on August 27, 2014. Pakistan's embattled prime minister said August 27 he would not cave in to protests demanding his resignation, striking a defiant note in his first major speech since the crisis erupted two weeks ago. Thousands of Khan's and Qadri's followers have been camped outside parliament since August 15 demanding Sharif quit, claiming the election which swept him to power last year was rigged. AFP PHOTO/Farooq NAEEM

کوئٹہ(ویب ڈیسک) حکومت کا قومی اسمبلی اجلاس سے 7 روز قبل پارلیمنٹ، لاجز کو ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے.

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ، لاجز کو ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا تاکہ کسی کو امن و امان کی کوئی شکایت نہ رہے.

وزیر داخلہ نے کہا کہ انصار السلام، بیت السلام اور پرائیویٹ ملیشیاء سمیت کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت 245 کے تحت فوج بلانے کا بھی اختیار رکھتی ہے.

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اپوزیشن شکست تسلیم کرے گی اور اسی تنخواہ پر کام کرے گی اور انھیں ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا.

عمران خان کے اپوزیشن پر سخت حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مولانا غفور حیدری نے بھی مجھ سے یہی گلہ کیا ہے، میرا خیال ہے ہمیں صلح صفائی اور ٹھنڈے پروگرام کیطرف جانا چاہیے.

انہوں نے تحریک عدم اعتماد میں ہارنا ہے اور اس کے بعد بھی ہمیں تنگ کرنا ہے، تو بہتر ہے کہ ان کے ساتھ ہم ابھی سے ٹھنڈے ہوجائیں اور انہیں ذہنی طور پر تیار کردیں کہ آپ ہارنے جارہے ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں تو آج بھی چاہتا ہوں کہ ہمیں صلح صفائی کی باتیں کرنی چاہئیں، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، بہتر ہے عمران خان کے ساتھ انتظار کریں، ایسا نہ ہو یہ 10سال لائن میں لگے رہیں۔

0Shares

Comments are closed.