ہو پیکرِ خلوص تو کافی ہے ایک شخص!

فہیم خان

بیشک انسان ہی انسان کی دوا ہے کوئی دکھ دتیاہے تو کوئی سکون بن جاتاہے کوئی نفرت کرتاہے تو کوئی محبت دیکر حساب برابر کردیتاہے کوئی رلاتاہے تو کوئی مسکرانے کی وجہ بن جاتاہے کوئی ٹھوکر لگاکر گرادیتاہے تو کوئی انتہائی محبت سے سہارابن جاتاہے۔

اس تمام اتارچڑھاوٴ کو بھی اگر محبت سے سوچاجائے تو ہماری زندگی آسان ہوسکتی ہے لیکن شائد ہم یہ کرنا نہیں چاہتے !آپ کسی کو بہت خواہش کے باوجود پا نہیں سکے، کسی کے ساتھ بہت دور چلنے کے بعد آپ کو پتا چلا کہ آپ تو وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ آپ کا سفر تو لاحاصل رہا۔

آپ کا اندر ٹوٹتا ہے اور ہر طرف شور سا مچ جاتا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنے کو آپ کا دل نہیں مانتا۔ آپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، نہ کہیں دل لگتا ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔بسااوقات یوں بھی ہوتاہے کہ انسان کو ایک ہی شخص سے کئی بار ٹھوکر لگتی ہے.

لیکن وہ پھر بھی نہیں سنبھلتاصرف اس لئے کہ وہ اس شخص سے محبت کرتاہے ۔کیونکہ ہم کچھ بھی بن جائیں۔۔۔ اگر ہمارے دل میں محبت نہیں ہے تو ہماری کو ئی وقعت نہیں ہے کیونکہ یہ محبت ہی ہے جو ہمیں انسانیت سے محبت کرنا سکھاتی ہے.

گویا جس کو جس سے محبت ہوئی اس نے اسی کی تعریف میں محبت کے حسن کو قلم بندھ کر دیا محبت جیسا احساس جس کے دل میں پیدا ہو جائے وہ محبوب کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔

کیونکہ کسی شے میں دلچسپی اور دلی لگن پیدا ہونا یہ محبت ہی آپ کو سکھاتی ہے اب محبت عام کسی شے سے بھی ہو سکتی ہے اور کسی خاص ہستی سے ، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور محبت کی یہ نوعیت معمولی سی بھی ہو سکتی ہے اور شدید بھی ہوسکتی ہے۔

جسے ہم پیار یا عشق بھی کہتے ہیں یعنی محبت ایک ایسی شے ہے جو کسی ایک چیز کے لیے مختص نہیں کی جا سکتی کیونکہ محبت انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔اگر محبت کو سمجھنا ہے اس کو دیکھنا ہے اس کو محسوس کرنا ہے تو پھر اس کا تجربہ کیا جائے۔

اگر محبت کے احساس کو سمجھیں گے نہیں تو پھر ہمیں محبت کے بارے معلوم کیسے ہو گا ایک انسان جو اپنی انا کے آگے کسی کو نہیں مانتا لیکن کسی کا دل جیتنے کے لیے انسان خود کو کتنا نرم مزاج بنا لیتا ہے کہ جس کو وہ محبوب بنا لے اس کا ہر تلخ لہجہ، ہر تلخ رویہ برداشت کرتا ہے.

اس کے ہر ناز نخرے اٹھاتا ہے اسکی وجہ صرف محبت ہوتی ہے جس انسان کو محبت کی سمجھ آ جاتی ہے اس کے لیے ایک انسان کافی ہے۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں!

لازم نہیں حیات میں احباب کا ہجوم
ہو پیکرِ خلوص تو کافی ہے ایک شخص

درحقیقت محبت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت کا نام ہے۔شایدیہی اس کی آزمائش ہے۔ لیکن یہ خاصا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ جس کے لئے بہت ہمت درکار ہے ورنہ جلد ہی یہ تعلق بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔

اگر آپ کو کسی سے محبت ہے اور وہ سچی بھی ہے تو پھر اس کے لئے صبر ناگزیر ہے۔ اور اب بھی اگریہ کہاجائے کہ محبت دیکھ بھال کرکرنی چاہئے تواس کایہ نتیجہ نکلتاہے کہ محبت امیری ،غریبی ، حسن یاخوبصورتی دیکھ کر نہیں بلکہ محبت دلوں سے کی جاتی ہے۔

یہ رشتہ تبھی پروان چڑھتاہے جب اس رشتے میں خلوص ،ایک دوسرے کے لئے بھروسہ اوراعتماد پیدا ہوتاہے۔چاہنے والے توکسی حدتک بھی چلے جاتے ہیں۔لیکن بدلنے والے تو فقط بہانے کی تلاش میں ہوتے ہیں کچھ لوگوں کی وجہ سے محبت بدنام ہوجاتی ہے اورزمانہ سمجھ بیٹھتاہے کہ محبت ایک دھوکہ ہے۔

0Shares

Comments are closed.