‏فیصل واوڈا نااہل قرار ، سینیٹر شپ ختم، تنخواہ و مراعات واپس

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) تحریک انصاف کے رہنما ‏فیصل واوڈا نااہل قرار ، سینیٹر شپ ختم، تنخواہ و مراعات واپس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ دے دیا.

فیصلے کے مطابق فیصل ووڈا سینیٹر شپ سے بھی نااہل ہو گئے ہیں جھوٹا بیان حلفی دینے پر آرٹیکل 62ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے.

الیکشن کمیشن نے سینیٹرشپ کا نوٹیفیکیشن روک دیا، بتایا گیا ہے کہ فیصل ووڈا نہ صرف
حلف نامہ جھوٹا جمع کرایا بلکہ دہری شہریت کا معاملہ بھی مخفی رکھا. گ

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ سنایا،الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی میں دوہری شہریت چھپانے کے الزام پر تحریک انصاف کے رہنماء فیصل واوڈا کو نااہل قرار دے دیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ فیصل واوڈا نے اپنےکاغذات نامزدگی میں غلط بیانی سےکام لیا اور کاغذات نامزدگی کےوقت جعلی حلف نامہ جمع کرایاگیا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ فیصل واوڈا کو آرٹیکل 62ون ایف کےتحت نااہل قرار دیا گیا، وہ صادق اور امین نہیں رہے، فیصل واوڈا نے بطور ایم این اے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بھی غلط کاسٹ کیا۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو بطور ایم این اے تمام مراعات واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ2 ماہ میں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم سنایا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کا سینیٹ کی نشست کیلئے نوٹیفکیشن واپس لیا جاتا ہے، فیصلے کے بعد فیصل واوڈا اب سینیٹر بھی نہیں رہیں گے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے میں فیصل واوڈا کو فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن میں فیصلے کے وقت حکومت کی طرف سے کوئی موجود نہیں تھا.

وزیر مملکت فرخ حبیب فارن فنڈنگ کیس کے سلسلے میں الیکشن کمیشن میں موجود تھے جبکہ فیصلے کے وقت درخواست گزار الیکشن کمیشن میں موجود تھے۔

واضح رہے رہے کہ فیصل واوڈا نااہلی کیس الیکشن کمیشن میں 22 ماہ سے زائد عرصہ زیر سماعت رہا،پی ٹی آئی رہنماء کخلا ف کیس 21 جنوری 2020 کو دائر کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کیس کی 23 سماعتیں کیں۔

ان کے کیس کی پہلی سماعت 3 فروری 2020 کو ہوئی،قادر مندوخیل، میاں فیصل اور میاں آصف محمود نے درخواستیں دی تھیں،جس میں فیصل واوڈا کی نااہلی کی استدعا کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کیا تھا،فیصل واوڈا پر 2018 عام انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں دوہری شہریت چھپانے کا الزام تھا۔

مارچ 2021 میں فیصل واوڈا بطور رکن قومی اسمبلی مستعفی ہوکر سینیٹر منتخب ہوئے تھے، تب بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ فیصل ووڈا الیکشن کمیشن سے بچنے کیلئے اسمبلی کی رکنیت چھوڑی ہے.

0Shares

Comments are closed.