بیجنگ سرمائی اولمپکس کی مشعل روشن کر نیوالی سنکیانگ کی اسکیئر

فوٹو:شِنہوا

بیجنگ (شِنہوا) دنیگیریلامو جیانگ جمعہ کی شب سے پہلے تک کراس کنٹری اسکینگ کی دنیا سے باہر زیادہ تر لوگوں کے لئے اجنبی تھی ۔
20 سالہ چینی لڑکی کو اس وقت شہرت ملی جب اس نے بیجنگ 2022 اولمپک سرمائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں ژاؤ جیاوین کے ہمراہ برف کے ٹکڑے کی شکل کی بڑی شمع روشن کی ۔

دنیگیرنے شِں ہوا کو بتایا کہ ” وہ لمحہ میری باقی زندگی میں ہرروز میری حوصلہ افزائی کرے گا۔جب مجھے پتہ چلا کہ ہم شمع روشن کرنے جارہے ہیں تو میں بہت پرجوش تھی۔ یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔

سن 2000 کی دہائی کی نمائندگی کر نے والی دنیگیر اور نارڈک کے مشترکہ کھلاڑی ژاؤ نے مشعل اپنے موسم سرما کے کھیل کے پیش رو سے وصول کی، جو کھیلوں کی روایات کی وراثت اور نسل در نسل اولمپک جذبے کی علامت ہے۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ترجمان مارک ایڈمز نے کہا کہ "ٹارچ (دنیگیر) ریلے میں حصہ لینے کی بالکل حقدار تھی، اور میرے خیال میں تمام نسلوں کی موجودگی کا تصور ایک بہترین تھا۔ میری رائے میں یہ ایک خوبصورت تصور تھا۔

چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خوداختیار خطے کے التے پریفیکچر میں 2001 میں پیدا ہونے والی دنیگیر کا برف کے ساتھ لگاؤ قدرتی معلوم ہو تاہے۔

سن2005 میں، اسکی کے ساتھ شکار کرنے والے التے لوگوں کی غار پینٹنگز دریافت ہوئیں، جن کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ یہ 10 ہزار برس سے زیادہ پرانی ہوسکتی ہیں۔ اس کے بعد سے التے کو بہت سے لوگوں نے انسانی اسکینگ کی جائے پیدائش کے طور پر تسلیم کرلیا۔

التے کے منفرد جغرافیائی اور موسمی حالات نے اسکینگ کو مقامی لوگوں کی زندگی کا ناگزیر حصہ بنادیا ہے۔ 1980 کی دہائی کے اوائل میں، التے خطے کے بہت سے کھلاڑیوں نے الپائن اسکینگ اور کراس کنٹری اسکینگ بین الاقوامی مقابلوں میں چین کی نمائندگی کرنا شروع کی۔

دنیگیر کے والد یلاموجیانگ معراج بھی کراس کنٹری کے کھلاڑی تھے ،جنہوں نے 1993 کے قومی کراس کنٹری مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، دنیگیر نے 10 سال کی عمر میں اس وقت کراس کنٹری اسکینگ شروع کی جب 2010 میں
ان کے والد نے بطور کوچ 20 افراد پر مشتمل نوجوان ٹیم کی بنیاد رکھی۔ان کی تربیت گاہ شہر کے بالکل باہر پہاڑیوں میں تھی۔

ہر سیشن سے پہلے، دنیگیر اور اس کے ساتھی لائن تشکیل دیتے تھے، اور پاؤڈر سنو سے باہر ایک ٹریل دبانے کے لئے ایک وقت میں ایک قدم آگے بڑھتے

ایک ایسے خطے میں جہاں برفباری ایک میٹر تک گہری ہوسکتی ہے، انہیں اکثر 7 یا 8 گھنٹے برف کو دبانے اور اگلے دن تربیت کے لئے رات بھر منجمد ہونے کے لئے ٹریل چھوڑنی پڑتی تھی۔

اپنی بیٹی کے اسکینگ کے تجربے پر بات کرتے ہوئے روشن ہاتی باجی نے کہا کہ پہلے تو وہ اس کی مخالف تھیں اور یہاں تک کہ وہ اپنے شوہر سے بھی خفا تھیں کیونکہ "ہمارے خاندان میں ایک ہی کراس کنٹری اسکیئر کافی تھا۔

لیکن دنیگیر اس کھیل کے لیے زیادہ سے زیادہ جنونی ہوگئی تھی۔ جب دوسری لڑکیاں ابھی گرنے پر رو رہی ہوتی تھیں تو دنیگیر کھڑے ہو کر آگے بڑھ جاتی ۔اس نے فراسٹ بائٹ اور زخموں کی کبھی پرواہ نہیں کی۔

یہ دنیگیر کا کراس کنٹری اسکینگ کے ساتھ لگاؤ اور جذبہ تھا کہ اس نے اپنی ماں کو مکمل طور پر راضی کرلیا۔ ہاتی باجی نے کہا کہ "میں نے اسے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ بار بار مقابلہ کرتے دیکھا، پھر میں سمجھ گئی کہ وہ اس سے کیریئر کی طرح لگاؤ رکھتی ہے۔

نوجوانوں کی ٹیم کے ساتھ اپنے سابقہ کراس کنٹری اسکینگ کے تجربے کے باوجود، دنیگیر2017 تک پروفیشنل کھلاڑی نہیں بنی،اس دوران اس نے قومی کراس کنٹری اسکیئنگ ٹیم میں شامل ہونے کے لیے ٹریک اینڈ فیلڈ کو چھوڑ دیا۔

2019 سے 2021 تک تین جونیئر عالمی چیمپئن شپ میں دنیگیر نے 5 کلومیٹر ایونٹ میں دو ٹاپ-10 اختتام کئے، جس میں 2020 میں پانچویں اور 2021 میں چھٹی پو زیشن شا مل تھیں۔

مارچ 2019 میں انہوں نے بیجنگ میں 3 مراحل پر مشتمل اسپرنٹ سیریز کے ابتدائی خواتین مرحلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور ایف آئی ایس کی سطح کے کسی بھی ایونٹ میں کھیل میں پہلی چینی میڈلسٹ بن گئیں۔

ہاتی باجی نے کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس میں ہم اس سے صرف یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی پوری کوشش کرے اور اپنی کوششوں پر پورا اترے۔ "مجھے امید ہے کہ وہ جلدی گھر واپس آئے گی تاکہ میں اس کے پسندیدہ پکوان بناسکوں اور اسے اچھی طرح آرام ملے ۔

 

0Shares

Comments are closed.