پاکستان کی معیشت میں 4.5 فیصد کی شرح سے بہتری آئی ، اقوام متحدہ

فوٹو : فائل

نیویارک( ویب ڈیسک)اقوام متحدہ نے کہا ہے پاکستان کی معیشت نسبتاً بہتری کے راستے پر گامزن رہی اور 2021میں پاکستان کی معیشت میں 4.5 فیصد کی شرح سے بہتری آئی ، اقوام متحدہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے

اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی اقتصادی صورتحال پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں جی ڈی پی میں اضافہ 3.9 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معیشت میں نجی طلب، بیرون ملک سے ریکارڈ ترسیلات اور مالی مدد سے بہتری رہی ہے جب کہ سال کے دوسرے حصے میں مہنگائی کی وجہ سے پاکستان نے شرح سود میں اضافہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق شرح سود میں اضافے کی دوسری وجہ بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے، جی 20 ممالک کی قرض معطلی سے پاکستان جیسے ممالک کو مناسب ریلیف نہیں ملا، قرض کی ادائیگی میں پاکستان کو 20 فیصد سے کم ریلیف ملا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 20 فیصد سیکم ریلیف جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے، پاکستانی معیشت کے لیے ریونیو بحالی اور کثیرالجہتی مدد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک کو تمام شعبوں کی بہتری کے لیے پالیسی میں بر وقت تبدیلی کی ضرورت ہے، مرکزی بینک کو مالیاتی شعبے اور قیمتوں میں استحکام کے لیے پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے۔

معیشت میں نجی طلب، بیرون ملک سے ریکارڈ ترسیلات اور مالی مدد سے بہتری رہی، پاکستان کی معیشت کیلئے ریونیو بحالی اور کثیرالجہتی مدد کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2022 کی پہلی ششماہی میں ترسیلات 11.3 فیصد بڑھ گئیں، مالی سال 2022، پہلی ششماہی میں ترسیلات 15ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نومبرکے مقابلے دسمبر 2021 میں ترسیلات ڈھائی فیصد بڑھیں، دسمبر2021 میں ڈھائی ارب ڈالر ترسیلات پاکستان آئیں، جون2020 سے اب تک ہر ماہ 2 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات موصول ہوئیں۔

0Shares

Comments are closed.