پیرسوہاوہ اسلام آباد میں مونال ریسٹورنٹ عدالتی حکم پر سیل کردیا گیا

فوٹو : فائل

اسلام آباد:پیرسوہاوہ اسلام آباد میں مونال ریسٹورنٹ عدالتی حکم پر سیل کردیا گیا، اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر سٹی رانا موسٰی نے مونال ریسٹورنٹ سیل کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیل کرنے کاحکم دیاتھا۔

گزشتہ روز ( منگل) کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا نیشنل پارک کی 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ غیرقانونی قرار دیا تھا اور حکم دیاتھا کہ 8 ہزار ایکڑ اراضی نیشنل پارک کا ایریا وفاقی حکومت کی ملکیت سمجھی جائے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو پیر سوہاوہ مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کا حکم دیدیا نیوی گالف کورس کو بھی آج ہی قبضہ لینے کا حکم دے گیا ہے۔

مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجاوزات کےخلاف کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ، دفاع اور چیئرمین سی ڈی اے عدالت میں پیش ہوئے، اسی دوران مونال کو سیل کرنے، نیوی گالف کورس کا آج ہی قبضہ لینےکا حکم دیا.

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سیکرٹری داخلہ سے کہا جوکچھ ہو رہا ہے وہ شاکنگ ہے،کورٹ آپ کو بلاکر بتاتی ہے اور فیصلے دیتی ہے، اسلام آباد میں لاقانونیت ہے، یہ کورٹ باربار فیصلے دے رہی ہے اور آپ کو بتارہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی 3 آرمڈ فورسزکے سیکٹربن گئےہیں، ان 3 سیکٹرز کی وجہ سے کوئی مسئلہ کیوں ہو؟ آرمڈ فورسزکو کسی صورت متنازع نہیں ہونا چاہیے، یہ مفاد عامہ میں نہیں۔

عدالت نے ملٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ 8 ہزار ایکڑ زمین مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل پارک ایریا محفوظ شدہ علاقہ ہے، اس میں کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی بلکہ نیشنل پارک ایریا میں کوئی گھاس بھی نہیں کاٹ سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جس زمین کا کوئی استعمال نہیں ہے وہ کہاں جائے گی یہ طے کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے، اور ایگزیکٹو نہیں بلکہ قانون طے کرے گا، کوئی پراپرٹی کسی ادارے کے نام پر نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ مونال کی 8 ہزار ایکڑ زمین کا دعویٰ کون کر رہا ہے؟ اس عدالت کو نیشنل پارک کا تحفظ کرنا ہے، وہ 8 ہزار ایکڑ زمین اب نیشنل پارک ایریا کا حصہ ہے، جسے اب 1979 کے قانون کے تحت مینج کیا جائے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ مسلح افواج خودمختار ادارے نہیں ہیں، تمام آرمڈ فورسز کو وزارت دفاع کنٹرول کرتی ہے اور سیکرٹری دفاع یہاں موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان نیوی نے تجاوزات کر کے گالف کورس بنایا جو اچھی بات نہیں، ہر شہری مسلح افواج کی عزت کرتا ہے، اگر وہ یہ کریں گے تو اچھا عوام تک پیغام نہیں جائے گا۔

چیف جسٖٹس نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ گالف کورس غیرقانونی ہے، گالف کورس کی زمین آج ہی سی ڈی اے کے حوالے کریں۔

اس دوران سماعت چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ہم نے نیوی کو سیلنگ کلب گرانے کا نوٹس دے دیا ہے، پنجاب حکومت بھی کچھ زمینوں کا دعویٰ کرتی ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ نافذ قوانین پر عملدرآمد کروا کر ہی مارگلہ نیشنل پارک کو بچایا جا سکتا ہے، عملدرآمد کا نظام نہ ہونے پر حکومت کی رٹ بھی کمزور ہوئی۔

عدالت نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی نشاندہی جلد مکمل کرنے اور ملٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ 8 ہزار ایکڑ زمین مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھی جائے۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ مسلح افواج کے تینوں سیکٹرز میں بھی کوئی غیر قانونی تعمیر نہ ہو، ساتھ ہی سیکریٹری دفاع اور چیف کمشنر کو کہا کہ یقینی بنائیں اب کوئی شکایت عدالت میں نہ آئے۔

سماعت کے دوران چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پنجاب بھی کچھ زمینوں پر دعویٰ کرتی ہے، اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ 1960 کے آرڈیننس کے بعد 1400 اسکوائرمیل کے ایریا میں تمام زمین سی ڈی اے کی ہے.

عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ فیصلے میں تمام چیزوں کی وضاحت کی جائے گی، نیشنل پارک کی زمین کی حدبندی کی نشاندہی کون کرے گا؟ اس پر چیئرمین نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر نشاندہی کرے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عام آدمی تو نیشنل پارک میں نہیں گھس سکتا، یہ اشرافیہ کی وجہ سے ہے، عدالت کو چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہر ادارے نے کہیں نہ کہیں تجاوزات کررکھی ہیں.

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے تو کوئی تجاوز نہیں کیا؟ اگر ایسا ہے تو ادھر سے شروع کریں، جب ادارے تجاوزات سے ہٹ جائیں گے توکسی اورکی بھی ہمت نہیں ہوگی۔

عدالت نے کہا کہ ہم سب کے سرشرم سے جھکنے چاہئیں کہ یونان کے شخص نے آکرماحول کے تحفظ پرکام کیا،عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو آج ہی مونال کو سیل کرنے اور سی ڈی اے کو آج ہی نیوی گالف کورس کا قبضہ لینے کا حکم دیا۔

0Shares

Comments are closed.