عمران خان نے نیا پاکستان کا کہہ کر پرانا بھی تباہ کردیا، نوازشریف

لاہور(زمینی حقائق ڈاٹ کام) مسلم لیگ ن کے قائد کہتے ہیں نئے پاکستان کےنام پر کھلنڈروں کا ٹولہ مسلط کردیا گیا،نوازشریف نے کہا ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے.

لاہور میں خواجہ محمد رفیق شہید کے 49 ویں یوم شہادت پر سیمینار سے ویڈیو لنک پر خطاب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ستم ظریفی دیکھیں اسٹاک مارکیٹ زمین بوس ہوگئی.

ان کا کہنا تھا کہ ملکی قرضے 42 ہزار ارب بڑھ گئے، سرکلر ڈیبٹ 2800 ارب، ڈالر 105روپے سے 180 کا ہوگیا، پاکستان کے اندر غربت مہنگائی اور باہر سفارتی تنہائی ہے۔

لندن سے ویڈیو لنک پر خطاب میں نواز شریف نےکہا کہ شہید خواجہ محمد رفیق نے تمام عمر جمہوریت کے قیام کیلئے جدوجہد کی، خواجہ رفیق ہمیشہ غریبوں، مزدوروں اور دکھی انسانیت کیلئے بات کرتے تھے، عوام کا استحصال کرنے والی قوتوں کے ہمیشہ مخالف رہے.

نواز شریف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ان کے بیٹے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق بھی اپنے والد کے نقش قدم پر گامزن ہیں، دونوں بھائیوں نے جبر اور ظلم کیخلاف جیلیں برداشت کیں لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے.

سابق وزیراعظم نے کہا میرے بھتیجے یوسف جیل میں ان کے ساتھ رہے، وہ چھوٹا بچہ ہے نیب نے ان کو بھی خواہ مخواہ پکڑ لیا، وہ ان کی داستان سناتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے جوانمردی سے جیل کاٹی ، نیب نے ہمارے خاندان کے کسی فرد کو نہیں چھوڑا، لیکن اللہ کے کرم سے قدم ڈگمگائے نہیں.

ن لیگ کے قائد کا کہنا تھا کہ ہم ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر گامزن رہے، بہت عرصے کے بعد کچھ چہرے آج نظر آرہے ہیں، تین بار قوم نے ہمیں مینڈیٹ دیا، پاکستان کی خدمت کیلئے چنا، اللہ کے کرم سے ہم خوشحالی لے کر آئے۔

نواز شریف نے کہا ہم نے معیشت کو ترقی دی، یہ شخص جو یہاں بیٹھا ہے اس کا نام محمد اسحاق ڈار ہے، ان کو دنیا یاد کرتی ہے، آج کے لوگوں کو بھی آپ دیکھا ہے ٹی وی پر آکر کبھی کچھ تو کبھی کچھ کہہ جاتے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک کچھ کہہ رہا ہے، وزیرخزانہ کچھ کہہ رہا ہے، باقی ایڈوائزر کچھ کہہ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بات کسی سے بھی نہیں بن رہی، اس شخص کو کریڈٹ ملنا چاہیے یہ شخص گھر سے بے گھر ہوا ہے، اس کا کیا قصور ہے؟اس شخص نے کیا جرم کیا ہے؟ پاکستان کا کیا چوری کیا اور لوٹا ہے؟لیکن گھر بار سے محروم کردیا گیا ہے۔

نوازشریف نے کہا آپ رحیم یار خان جائیں، وہاں سے سکھر جائیں، پھر حیدرآباد سے کراچی تک، ڈی آئی خان سے لے کر بلوچستان کوئٹہ تک اور گوادر سے کوئٹہ تک موٹروے ملتی ہے، پھر ہائی وے بنائی گئی جو پاکستان کی تاریخ میں بھی سوچی نہیں گئی ہوگی.

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گلگت سے اسکردو جائیں وہاں تک 50ارب روپیہ خرچ کرکے نئی سرخ مکمل ہوچکی ہے، یہ نئی تاریخ رقم ہورہی تھی، یہ پتا نہیں کس نئے پاکستان کی بنیاد کیا بات کرتے ہیں، نیا پاکستان تو یہ ہے جس کی ہم نے نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ پایہ تکمیل تک پہنچایا.

مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا ہم نے میٹروبنائی، اورنج لائن بنائی، پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم کیئے، میں نے کہا پانچ سال میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگی لیکن اللہ نے تین سال میں ختم کردی۔شہبازشریف نے مجھے کہا آپ ایک سال یا دوسال لوڈشیڈنگ خاتمے کی بات کریں ورنہ ووٹ نہیں ملنا.

میں نے کہا کہ یہ دوسال میں کام نہیں ہونا۔میں نے کہا کوشش ہی کریں گے اگر پہلے ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے کہ کہا پانچ سال اور تین میں ختم کردی ، شہبازشریف کی ذاتی محنت نہ ہوتی تو لوڈشیڈنگ ختم کرنا مشکل کام تھا۔

ریلوے پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا خواجہ سعد رفیق نے نیا ریلوے ٹریک بچھایا، اس کو ترقی کہتے ہیں، پھردہشتگردی ختم کی، روز دھماکے ہوتے تھے، پھر کراچی سمیت پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ ہسپتال، یونیورسٹیاں شہبازشریف کی ٹیم نے بنائیں ، لندن میں بھی ایسے ہسپتال مشکل کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیں،نئے پاکستان کے نام پر 2018کے الیکشن کو چوری کرکے نالائق کھلنڈروں کا ٹولہ بٹھا دیا گیا، عمران خان کو 22کروڑ عوام پر مسلط کردیا گیا، عمران خان نے نیا پاکستان کا کہہ کر پرانا بھی تباہ کردیا، نوازشریف نے کہا اسٹاک مارکیٹ زمین بوس ہوگئی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ سبز پرچم کی عزت کا عالم یہ ہے کہ ایک ایک بلین ڈالر کی بھیک مانگنے کیلئے کشکول لے کر جا رہے ہیں، پاکستان کو بے توقیر اور بے عزت کردیا ہے، چین نے ہمیں بڑا پرانا قرض دیا ہوا تھا، وہ ہر سال ایک بلین ڈالر ری نیو ہوتا تھا.

میں نے اسحاق ڈار کو کہا چین ہمارا دوست ہے میں اپنے دستخطوں سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کو ری نیو کردیں، برائے مہربانی خزانے سے پیسے ادا کردیں، اسحاق ڈار کہتے کہ بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوجائے گا،یہ کہتے اس میں توسیع کروالیں، میں نے کہا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، الحمد اللہ ہم نے وہ ادا کردیا.

کہتا تھا آئی ایم ایف جانے سے پہلے خود کشی کروں گا، اب خود کشی بھی نہیں کر رہا 

نواز شریف نے کہا آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ دیا تھا ، یہ کہتا تھا میں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کرلوں گا، ہم تو انتظار کررہے ہیں، خود کشی بھی نہیں کرتا اس میں بھی یوٹرن لے گیا ہے، سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی کرسی تک نہیں رکھی جاتی.

انھوں نے کہا اب سبز پاسپورٹ کی عزت یہ ہے کہ کوئی جہاز رکھ لیتا ہے اور کوئی ہمارے ہوٹل پر قبضہ کرلیتا ہے، پی آئی اے کا برا حال کرنے والے وزیر اعظم اور پورے ٹولے کا احتساب ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کٹھ پتلی اور امریکن ٹی وی پر آپ کو اسلام آباد میئر سے بھی کم کہا جارہا ہے۔ ہم سب کے بڑے پاکستان آئے تھے، بڑوں نے اس لیے قربانیاں نہیں دی تھیں، کام کی بات یہ ہے کہ یاد رکھیں یہ اس لیے ہوا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس وال امعاملہ چلایا گیا، ووٹ کو عزت نہیں ملی.

پہلی بار ووٹ کی عزت کا نام لیا گیا، عوام حق حکمرانی سے محروم رہے، عوام حکومت بنانے اور گرانے میں کوئی کردار نہیں رہا، عوام کی رائے کا کبھی احترام نہیں کیا گیا۔ریاست کے اوپر ریاست چلتی رہی، آئین کی آزادی پر قدغن لگی رہی، یہ اسباب سب کو یاد رکھنے چاہئیں.

نوازشریف نے کہا کہ ان سارے مسائل کا حل ہوسکتا ہے بشرطیکہ کے 74 سالہ غلطیوں سے سبق سیکھا جائے، اس کے بغیر کوئی دوسرا حل نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ آرٹی ایس کو بند کیا جائے ووٹ چوری کیا جائے، جو قوم ماضی سے سبق نہیں سیکھتی اس کا مستقبل کبھی نہیں بدلتا، یہ سب کچھ عوام کی طاقت سے ممکن ہوگا۔

0Shares

Comments are closed.