کراچی میں دھماکہ سے مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی

کراچی(زمینی حقائق ڈاٹ کام) کراچی میں دھماکہ سے مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی، مرنے والوں میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عالمگیرخان کے والد بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ کراچی کے علاقے شیر شاہ میں پراچہ چوک کے قریب گیس لیکیج سے دھماکا ہوا ہے، متعدد زخمی ہوئے جنھیں اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے. دھماکے سے نالے کے اوپر قائم نجی بینک کی عمارت تباہ ہوگئی.

دھماکے سے قریب کھڑی کچھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا سیوریج لائن میں گیس کے اخراج سے ہوا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا.

عینی شاہدین کے مطابق امدادی ٹیموں کی جانب سے ملبہ ہٹائے جانے کے دوران نالے میں ایک اور دھماکا ہوا ہے تاہم سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا،ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا کہ شیر شاہ دھماکے میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں.

جاری ہے

عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اتنا زور دار تھا کہ ایک کار اڑ کر دور جا گری جبکہ نالے اور بینک کا ملبہ بھی دور دور جا کر گرا ہے جبکہ سیوریج کے نالے میں دھماکے سے نالے کی چھت بھی دور جا کر گری، دھماکے کے نتیجے میں قریب ہی واقع نجی بینک کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ادھر کیماڑی ڈسٹرکٹ پولیس نے واقعے میں تخریب کاری یا دہشت گردی کے عنصر کو رد کر دیا ہے، پولیس کے مطابق یہ واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا ہے۔

کے ایم سی ذرائع نے بتایا کہ حب ریور روڈ نالے اور شیر شاہ نالے کا زیرو پوائنٹ ہے، جس مقام پر دھماکا ہوا وہاں نالہ 5 سے 6 فٹ چوڑا ہے، نالے پر تعمیرات بہت پرانی ہیں، یہ کب ہوئیں اس حوالے سے تفصیلات موجود نہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 15 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 13 زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق تمام جاں بحق افراد کے جسم کے اوپری حصے میں زخم آئے تھے، جب کہ دھماکے کے 13 زخمی لائے گئے ہیں جن کے چہرے اور سینے زیادہ زخمی ہیں۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر دھماکا گیس پائپ لائن پھٹنے سے ہوا ہے، گیس پائپ لائن نالے کے نیچے سے گزر رہی تھی اور دھماکا نالے میں گیس بھرنے سے ہوا، تاہم حتمی طور پر کہنا قبل ازوقت ہے.

دھماکے کی نوعیت کی جانچ کیلئے بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی اپنے کام میں مصروف ہے دھماکے کی نوعیت کا تعین بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا، پولیس ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ادھر سندھ رینجرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ رینجرز کے جوان موقع پر پہنچے ہیں اور جائے حادثہ کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے.

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شیر شاہ کے قریب دھماکے کا نوٹس لے لیا، اور کمشنر کراچی کو تفیصلی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ انکوائری میں پولیس کا افسر بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہوسکے.

0Shares

Comments are closed.