آسٹریلیا کے بعد انگلینڈ کا بھی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان

لاہور(سپورٹس ڈیسک) رمیض راجہ کے اصولی موقف اور پاکستان ٹیم کو کچھ کر دکھانے کے مشورہ نے کام دکھا دیا، ادھر بابراعظم الیون نے ورلڈ کپ میں فتوحات حاصل کیں دوسری طرف انگلینڈ بھی ٹیم بھیجنے پر آمادہ ہو گیا.

میڈیا رپورٹس کے مطابق چئیرمین پی سی بی رمیض راجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم آئندہ سال 2 مرتبہ پاکستان کا دورہ کرے گی۔

برطانوی ٹیم آئندہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل پاکستان کیخلاف 5 کی بجائے 7 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی، اس سے قبل آسٹریلیا نے بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کیلئے رضا مندی ظاہر کی تھی۔

انگلش ٹیم آئندہ سال شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل پاکستان آ کر کل 7 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی، اس سے قبل 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز طے پائی تھی، تاہم اب میچز کی تعداد میں اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

چئیرمین پی سی بی کے مطابق انگلش ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بعد دوبارہ پاکستان آئے گی اور ٹیسٹ سیریز کا بھی انعقاد ہو گا، انگلینڈ کی ٹیم ستمبر 2022 میں پاکستان پہنچے گی۔

آج پی سی بی ہیڈ کوارٹر قذافی سٹیڈیم میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے سربراہ ٹام ہیرسن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیض راجہ سے ملاقات سے میں انگلینڈ ٹیم کے دورہ پاکستان کو ری شیڈول کرنے کے حوالے سے بات چیت کی۔

واضح رہے انگلینڈ نے دورہ پاکستان میں 2 ٹی ٹونٹی کھیلنے تھے جو کہ راولپنڈی میں 13 اور 14 اکتوبر کو شیڈول تھے تاہم نیوزی لینڈ کے واپس جانے پر انگلینڈ نے بھی دورہ ملتوی کر دیا تھا۔

انگلینڈ کی ویمنز ٹیم کا دورہ بھی انہی دنوں شیڈول تھا اور اس دوران تین ایک روزہ میچز کھیلے جانے تھے۔ اس سے قبل پاکستانی ٹیم نے کووڈ میں گزشتہ برس اس وقت انگلینڈ کا دورہ کیا تھا.

انگلینڈ نے اکتوبر میں پاکستان کا دورہ عین وقت پر ملتوی کیا تو ترش جواب دیا گیا تھا۔ ای سی بی کے فیصلے پر پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے کہا تھا کہ کمیشن نے دورے کی حمایت کی تھی.

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ای سی بی نے کھلاڑیوں کے حوالے خدشات پر کیا ہے۔ رمیض راجہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ استعمال کرکے پھینک دیا گیا.

0Shares

Comments are closed.