شی جن پھنگ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کو نئے سفر پر گامزن کردیا

0 0
Read Time:16 Minute, 31 Second

فوٹو:شِنہوا

بیجنگ(شِنہوا) چین کی تاریخ کے ایک خاص سال 2021 کے دوران، شی جن پھنگ کی مصروفیات انتہائی زیادہ رہیں اورگزشتہ مہینوں میں انہوں نے پارٹی کی صد سالہ تقریب سے خطاب میں ہر لحاظ سے ایک اعتدال پسند خوشحال معاشرے کے قیام کا اعلان کیا، تبت کا معائنہ جاتی دورہ کیا، ملک کے پہلے خلائی اسٹیشن پر کام کرنے والے خلابازوں سے بات کی، اقوام متحدہ کی آن لائن اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ روسی صدر ویلادیمیر پوٹن، امریکی صدر جو بائیڈن سمیت عالمی رہنماؤں سے فون یا ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی,شی جن پھنگ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کو نئے سفر پر گامزن کردیا۔

اگلے ہفتے، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی، حکومتی جماعت کے ایک اعلیٰ سطحی بند کمرہ اجلاس جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 19ویں مرکزی کمیٹی کا چھٹا مکمل اجلاس ہیمیں شرکت کریں گے۔اس اہم اجلاس میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 100 سالہ جدوجہد کی اہم کامیابیوں اور تاریخی تجربات کے حوالے سیایک تاریخی دستاویز پیش کی جائے گی۔

چین کے صدر شی جن پھنگ 30 دسمبر 2012 کو شمالی صوبے ہیبے کی فوپھنگ کاؤنٹی کے لونگ چھوان گوان ٹاؤن شپ کے گاؤں لوتھووان کے غریب دیہاتیوں سے ملاقات کرتے ہوئے۔(شِنہوا)

دنیا بھر میں بہت کم سیاسی جماعتیں اتنی طویل تاریخ اور ریاستی حکمرانی کے بلاتعطل دور پر فخر کر سکتی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے 72 سال سے چین پر حکومت کی ہے۔ اس وقت، شی کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت کا مرکز ہیں۔ان سے پہلے، مرکزی اجتماعی قیادت کے کئی دہائیوں پر محیط دور کی ماؤ زے تنگ، ڈینگ شیاؤ پھنگ ، جیانگ ژیمن، اور ہوجن تاؤ نے بطور چیف نمائندگی کی۔

نومبر 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری منتخب ہونے کے بعد سے، شی ایک پرعزم اور باعمل آدمی، گہرے خیالات اور احساسات کے حامل، ایک ایسے شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہیں پارٹی کی وراثت ملی لیکن اُس میں جدیدیت اور تبدیلیوں کی ہمت موجود ہے اور وہ مستقبل کے وژن کے ساتھ انتھک کام کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

چینل نیوز ایشیا نے کہا کہ ان کی قیادت میں، چین ایک طاقتور ملک بن رہا ہے، اور اب طاقت کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
نئے سفر پر، شی بلاشبہ تاریخ کے دھارے کو ترتیب دینے میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ مواقع اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے وہ پارٹی کی قیادت کیسے کریں گے؟ وہ چین کو دوبارہ دنیا کے مرکز میں کیسے لائیں گے ؟ آج دنیا شی کو اسی طرح قریب سے دیکھ رہی ہے جس طرح نو سال پہلے دیکھ رہی تھی۔

چین کے صدرشی جن پھنگ 21 اپریل 2020 کو شمال مغربی صوبے شان شی کے شہر انکانگ کی پھنگلی کاؤنٹی کے لاوشیان ٹاؤن شپ کے ایک پرائمری اسکول کا معائنہ کرتے ہوئے۔(شِنہوا)
ستمبر میں، ملک کے شمال مغربی صوبے شانشی کے گاؤں گاوشی گو کے معائنہ جاتی دورہ کے دوران، شی فصلوں کا معائنہ کرنے اور کھیتوں میں کام کرنے والے دیہاتیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے کھیتوں میں گئے۔ شی نے غربت سے نجات کے لیے مقامی کامیابیوں کو سراہا۔ گاوشی گو کبھی ایک غریب گاؤں تھا؛ پارٹی کے کارکنوں اور گاؤں والوں کی محنت کی بدولت آج یہ خوشحال ہے۔

1974 میں شانشی میں گاوشی گوسے تقریباً 150 کلومیٹر دور لیانگ جیاہیمیں شی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ صرف 15 سال کے تھے جب وہ 1969 میں ایک "تعلیم یافتہ نوجوان” کے طور پر لیانگ جیاہے پہنچے۔ انہیں اگلے سات سال دیہی سطح مرتفع لوئس کے چھوٹے سے گاؤں میں گزارنا تھے۔ دن بھر کی مشقت کے بعد، وہ اپنے قدیم غارنما گھر میں واپس آتے اور ایک سادہ مٹی کے بستر پر سوتے تھے۔ 38 سال تک پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی مختلف سطحوں پر اور متعدد عہدوں پر تعینات رہنے کے بعد وہ اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہوئے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ میں شمولیت کے بعد شی، لیانگ جیاہے کے پارٹی سیکرٹری بن گئے۔ ان کے گاؤں کے ساتھی کا کہنا ہے کہ شی نے "ایمانداری سے کام کیا،جن کے پاس بہت سے خیالات تھے اور وہ لوگوں اور کارکنوں کو متحد کر سکتے تھے۔غریب گاؤں میں اپنے وقت کو یاد کرتے ہوئے، شی نے کہا کہ یہ ان کی شدید خواہش تھی گاوں کے لوگوں کو کھانے میں گوشت ملے۔

چین کے صدر شی جن پھنگ 10 مارچ 2020 کو وسطی صوبے ہوبے کے صدر مقام ووہان کے ہو شن شان ہسپتال میں زیر علاج مریض اور طبی کارکنوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے۔(شِنہوا)

کمیونٹی کو گھر کہنے والوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے، شی نے مختلف منصوبے شروع کیے، جن میں کنویں، چھت والے کھیت اور میتھین پیدا کرنے والے گڑھے شامل تھے۔ ان "سادہ” منصوبوں نے گاؤں والوں کی زندگی، کام اور رویوں پر نمایاں اثر ڈالا۔اپنے فارغ وقت میں، نوجوان شی جتنی کتابوں کا مطالعہ کرسکتے تھے انہوں نے کیا۔ خاص طور پر انہوں نے داس کیپٹل کو تین بار پڑھا۔ بنیادی کام کے حوالے سے انہوں نے 18 نوٹ بک تحریری کیں۔

شی کے والد شی ژونگ شن کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اولین رہنماوں میں سے ایک تھے ۔ شی جن پھنگ اکثر اپنے والد کی طرف سے ودیعت کردہ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے۔ ایک بہت پسند کی جانے والی اسکول کی کتاب سے متاثر ہو کر، شی نے فیصلہ کیا کہ وہ چھوٹی عمر سے ہی انقلابی مشعل کو لے کر آگے بڑھیں گے۔

1975 میں، شی کو بیجنگ کی ممتاز چھنگھوا یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ گریجویشن کرنے کے بعد، انہوں نے 1982 میں شمالی صوبہ ہیبے کی ایک کاؤنٹی ژینگ ڈنگ جانے سے پہلے مرکزی فوجی کمیشن کے جنرل آفس میں کام کیا۔ژینگ ڈنگ میں گزرے اپنے دنوں کو یاد کرتے ہوئے شی نے کہا کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر لوگوں کے درمیان نچلی سطح پر کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں سے اس طرح کا پیار کرنا چاہتے تھے جیسے وہ اپنے والدین سیکرتے ہیں۔

ژینگ ڈنگ کے بعد، شی کا سیاسی کیریئر انہیں ساحلی صوبوں فوجیان اور ژی جیانگ اور شنگھائی کے شہر لے گیا۔ وہ جہاں بھی گئے، لوگوں سے ان کے قریبی تعلقات نمایاں رہے۔ انہوں نے ژینگ ڈنگ کے دوستوں اور ساتھیوں کی یاد میں اثر انگیز اور محبت سے بھری تحریریں لکھیں جو اس وقت دنیا میں موجود نہیں ہیں۔شی نے لیانگ جیاہے کے ایک دیہاتی کے طبی علاج کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کئے۔
شی جن پھنگ کی عوام کی فلاح وبہبود کی کوششیں ان کے کام کے ہر پہلو میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ژی جیانگ میں واپس آنے والے ان کے ساتھیوں میں سے ایک ژانگ ہونگ منگ شی کے رویے اور کام کرنے کی اخلاقیات کو اب بھی یاد کرتے ہیں جب صوبہ طوفان کی زد میں آیا تھا۔

چین کے صدر شی جن پھنگ 18 دسمبر 2018 کو دارالحکومت بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں اصلاحات اور کھلی معیشت کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان اجتماع کے دوران اعزازات حاصل کرنے والے اہلکاروں کو داد دیتے ہوئے۔(شِنہوا)

شی کی ہدایات کو یاد کرتے ہوئے ژانگ نے بتایا کہ شی کا کہنا تھاکہ بھلے ہماری دس میں سے نو انخلاء کی کوششیں بے کار جائیں، تب بھی ہمیں لوگوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان کو مصیبت سے باہر نکالنا ہوگا۔پوڈونگ، شنگھائی میں چائنہ ایگزیکٹو لیڈرشپ اکیڈمی کے پروفیسر لیو جِنگ بی کا کہنا ہے کہ شی کا عوامی خدمت پر مبنی فلسفہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کیوں کوویڈ-19 کی وبا کے دوران ہر قیمت پر لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے غیر متزلزل کوششوں کا حکم دیا۔

سال 2007 میں، شی کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بیجنگ واپس آئے اور بعد میں چین کے نائب صدر بن گئے۔ انہوں نے پارٹی کی تعمیر، تنظیمی کام، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے معاملات، اور 2008 کے بیجنگ اولمپکس کی تیاریوں سمیت دیگر امور کی نگرانی کی۔

پھر59 سال کی عمر میں، شی کو نومبر 2012 میں پارٹی کے سب سے سینئر عہدے پر فائز کیا گیا۔ تقریباً ایک ماہ بعد، انہوں نے سخت سردی میں ہیبے کے غریب دیہاتیوں سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر، شی نے ان کی آمدنی کے بارے میں پوچھا، کیا ان کے پاس سردیوں میں گرم رہنے کے لیے کافی کھانا اور گرم بستر اور کوئلہ موجود ہے۔ شی نے کہا کہ ان کا دل ڈوب گیا جب انہوں نے دیکھا کہ کچھ دیہاتی اب بھی اپنی زندگی گزارنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔

پارٹی کو مضبوط کرنا

سال 2021 شی کے دستخطوں سے شروع ہونے والی انسداد بدعنوانی مہم کا نواں سال بھی ہے، جو چینی تاریخ میں سب سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ اس مہم کیمستقبل میں کم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔رواں سال مالیاتی شعبے کے 20 سے زیادہ اعلیٰ سطح کے اہلکاروں یا اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کو سزا دی گئی یا ان کے خلاف تحقیقات کی گئیں۔ اور پچھلے 30 دنوں میں، مرکزی حکومت کے قانون نافذ کرنے والے ادارے میں وزارتی سطح کے ایک سابق اہلکار سے تفتیش کی گئی جبکہ دوسرے کو سزا دی گئی۔

چین کے صدر شی جن پھنگ 17 دسمبر 2019 کو ملک کے جنوبی صوبے ہائی نان کے شہر سانیا کی نیول بندرگاہ پر طیارہ بردار بحری جہاز شان ڈونگ پر گارڈ آف آنر کامعائنہ کرتے ہوئے۔(شِنہوا)

جب شی کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا تو اگرچہ چین پہلے ہی دنیا کی دوسری بڑی معیشت تھا پھر بھی، اسے اندر سے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ شی نے اس وقت خبردار کیاتھا کہ حقائق سے ثابت ہے کہ اگر بدعنوانی کو پھیلنے دیا گیا تو یہ بالآخر ایک پارٹی کی تباہی اور حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گی۔

گزشتہ نو سالوں کے دوران، وزارتی سطح یا اس سے اوپر کے 400 سے زائد اہلکاروں کو سزا یا تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کی قائمہ کمیٹی کے ایک سابق رکن اور مرکزی فوجی کمیشن کے دو سابق نائب چیئرمین شامل ہوئے ہیں۔ 2014 سے 2020 تک، 120 سے زائد ممالک اور خطوں سے 8ہزار 300 مفرور افراد کو واپس لایا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ ایک نازک وقت میں، شی نے بازی پلٹ دی ہے۔شی نے طاقت کو انتظامی جانچ پڑتال کے تحت لانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے نیشنل سپروائزری کمیشن کے قیام کی کوششوں کی بھی قیادت کی۔ سپروائزری اصلاحات کے بعد پبلک سیکٹر کے تمام ملازمین کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر، شی نے اندرونِ جماعت تقریباً 200 ضوابط وضع کرنے اور ان پر نظر ثانی کرنے کی کوششوں کی قیادت کی ۔ انہوں نے پارٹی ممبران کے نظریات اور اعتقادات کو مستحکم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ موثر طریقے سے اور متحد ہو کر کام کریں، جماعتی تعلیم کی پانچ مہمات کا آغازکیا۔

شی نے انٹرا پارٹی جمہوریت کو بھی بہت اہمیت دی۔ پارٹی کی قومی کانگریس کی تمام رپورٹس، مکمل اجلاسوں میں نظرثانی شدہ دستاویزات اور پارٹی کی اہم دستاویزات، فیصلوں اور اصلاحاتی پالیسیوں کے حوالے سے عوامی آرا لی جاتی ہیں۔اس سال جون تک کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اراکین کی تعداد بڑھ کر9کروڑ50لاکھ ہو گئی تھی جو جرمنی کی آبادی سے 1کروڑ زیادہ ہے۔ چین کے مطالعاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی پہلے سے زیادہ نظم و ضبط کی حامل، خالص اور طاقتور بن گئی ہے۔

چین کے صدر شی جن پھنگ 17 جون 2020 کو دارالحکومت بیجنگ میں کوویڈ- 19 کے خلاف یکجہتی کے حوالے سے ہونے والے غیر معمولی چین-افریقہ سربراہی اجلاس کی صدارت اور خطاب کرتے ہوئے۔(شِنہوا)

چین کے ایک مبصر نیل تھامس کا کہنا ہے کہ شی جن پھنگ کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اندر پہلے سے کہیں زیادہ حمایت حاصل ہے۔
2016 میں، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 18ویں مرکزی کمیٹی کے چھٹے مکمل اجلاس نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی اور پوری پارٹی کا مرکز کے طور پر شی کی حیثیت کو تسلیم کیا۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف پارٹی ہسٹری اینڈ لٹریچر کے ریسرچ فیلو وانگ جونوی کا کہنا ہے کہ مضبوط قائدانہ بنیاد کے بغیر، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کیلئے پوری پارٹی کی منشا کو یکجا کرنا یا تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے درمیان یکجہتی اور اتحاد قائم کرنا مشکل ہے۔ اس کے بغیر یہ کچھ حاصل کرنے یا اپنی بہت سی نئی تاریخی خصوصیات کے ساتھ عظیم جدوجہد کوپایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔

اکتوبر 2017 میں، نئے دور کے لیے چینی خصوصیات کے ساتھ سوشلزم پر شی جن پھنگ کی سوچ کو سی پی سی کی 19ویں نیشنل کانگریس میں باضابطہ طور پر مقرر کیا گیا۔یہ سوچ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے آئین اور چین کے آئین میں درج ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ مرکزی کمیٹی (نیشنل اکیڈمی آف گورننس) کے پارٹی اسکول کے پروفیسر شن منگ کا کہنا ہے کہ ماؤزے تنگ اور ڈینگ شیاؤ پھنگ کی طرح، شی نے مارکسزم کو چینی سیاق و سباق میں اختیار کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا ہے اور اسے متعلقہ رکھا ہے۔

چین کو مضبوط بنانا

1840 کی افیون کی جنگ کے بعد چین بتدریج ایک نیم نوآبادیاتی اور نیم جاگیردارانہ معاشرے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ غیر ملکی غنڈہ گردی،غربت اور کمزوری کا شکار تھا۔شی نے تاریخ کے اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "کتنی ذلت ہے! اس وقت چین کو روندا گیا تھا۔”کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ 1921 میں صورتحال کو بدلنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ مرکزی کمیٹی (نیشنل اکیڈمی آف گورننس) کے پارٹی اسکول کے پروفیسر ہان چھنگ شیانگ کے مطابق،قومی تجدید کے حصول کے لئے چار اہم سنگ میل کا تعین کیا گیا : 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کا قیام؛ 1978 میں اصلاحات اور کھلی معیشت کی آمد؛ اور 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 18ویں نیشنل کانگریس کے بعدکا نیا دور۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ مرکزی کمیٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب ہونے کے دو ہفتوں بعد، انہوں نے قومی تجدید کا "چینی خواب” پیش کیا۔ رواں سال اکتوبر میں، 1911 کے انقلاب کی 110 ویں سالگرہ کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں، شی نے اپنی 35 منٹ کی تقریر میں 25 بار ” قومی تجدید ” کا ذکر کیا، جس سے یہ سب سے زیادہ زور دار پیغامات میں سے ایک بن گیا ہے۔

شی کا خیال ہے کہ قومی تجدید کے لیے اسٹریٹجک ڈیزائن اور سخت محنت دونوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک باعمل آدمی بن کر قیادت کی۔ صرف 2019 میں، شی نے 500 سے زیادہ اہم تقریبات میں حصہ لیا۔ فرائض کی ادائیگی کا سفر اس سال میں تقریباً 30 ہفتوں کے اختتام ہفتہ پر مشتمل تھا۔ انہوں نے بڑے اصلاحاتی منصوبوں کے ہر مسودے پر نظر ثانی کی۔

اگرچہ شی کے پاس اپنے لیے بہت کم وقت ہے، لیکن وہ تیراکی کے لیے وقت نکال ہی لیتے ہیں۔ یہ ان کا جوانی سے ہی معمول ہے کیونکہ تیراکی اور جسمانی مشقت پارٹی، حکومت اور فوج کے معاملات کی انجام دہی کے لئے ان کی صلاحیت کو یقینی بناتی ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ بات کہ انہیں اپنے مشن کا بخوبی احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ خوشی سخت محنت سے حاصل کی جاتی ہے۔

چینی صدر اکثر کھیتوں، ماہی گیروں کی بستیوں، کسانوں کے گھروں، کھانے پینے کی معمولی جگہوں، سپر مارکیٹوں، فیکٹریوں کی ورکشاپس، لیبارٹریوں، ہسپتالوں، اسکولوں کا دورہ کرتے نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ وہ صفائی کی ناقص صورتحال والی جگہوں اور بیت الخلاء کا معائنہ بھی کرتے ہیں تاکہ براہ راست معلومات حاصل کی جا سکیں۔

ژای جیانگ صوبے میں شی کے سابق ساتھی ژانگ مینگ جن کا کہنا ہے کہ”شی ہر دن کے ساتھ اپنے علم اور معلومات میں اضافہ کرتے ہیں اس لیے ان کو جھوٹ یا شیخی مار کر بے وقوف بنانا ناممکن ہے۔ ہمیں ان سے بات چیت کرتے وقت ایمانداری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔”
شی نے گزشتہ نو سالوں میں بے شمار رکاوٹوں اور بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے ہر امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔

سال2015 کے اوائل میں، یمن میں افراتفری پھیلنے کے موقع پرانہوں نے ملکی بحریہ کو سینکڑوں پھنسے ہوئے چینی شہریوں کو نکالنے کی ہدایت کی۔امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کرنے پر شی نے حکمت عملی بنائی کہ چین تجارتی جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور ضرورت پڑنے پر ہرایک کا مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت اور تعاون کو مضبوط بنانا دونوں ممالک کے لیے واحد صحیح انتخاب اور وسیع بحرالکاہل میں دو بڑے ممالک چین اور امریکہ کے لیے کافی جگہ ہے۔

ڈیاؤیو جزائر کے پانیوں میں باقاعدہ گشت کرنے سے لے کر، نام نہاد جنوبی بحیرہ چین کی ثالثی رکوانے، چین بھارت سرحدی تنازعات کے حل تلاش کرنے، غیر قانونی طور پر بیرون ملک زیر حراست چینی باشندوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے تک، شی نے سٹریٹجک اور حکمت عملی وضع کی اور اس پر پیش رفت کی اور جہاں ضرورت ہوئی وہاں ذاتی طور پر بھی مداخلت کی۔2019 میں، جب ہانگ کانگ سماجی بدامنی کا شکار تھا،شی نے "ایک ملک، دو نظام” کے تحفظ کے لیے کوششوں کا حکم دیا اور "رنگین انقلاب” کو ہوادینے کی کوششوں کو کچل دیا۔

چین کے صدر شی جن پھنگ کی زیر قیادت کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ اور ریاست کے دیگر رہنما لی کھ چھیانگ،لی ژانشو، وانگ یانگ، وانگ ہوننگ، ژاؤ لیجی،ہان ژینگ اور وانگ چھی شان 18 جون 2021 کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے میوزیم میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی تاریخ سے متعلق نمائش کا دورہ کرنے کے بعد پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کئے جانے والے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے۔(شِنہوا)

نئے قمری سال 2020 کے موقع پر،جب نئے چینی سال کی تقریبات کوویڈ-19 کی وبا کے گہرے بادلوں کی لپیٹ میں تھیں،شی نے ایک رات بغیر سو کر گزاری۔ اگلے دن، انہوں نے ملک کے ردعمل پر تبادلہ خیال کے لیے پارٹی قیادت کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس سے قبل شی نے ہوبے اور ووہان میں لوگوں کی نقل و حرکت اور گھروں سے باہر نکلنے پر پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ وقت نے دکھایا ہے کہ یہ سخت طریقہ ہی واحد قابل عمل آپشن تھا۔

شی نے پارٹی کی زبان میں "بلیک سوان” اور "گرے رینو” کو متعارف کرایا۔جسے حقیقت میں پارٹی اسکول کے پروفیسر ہان نے خطرے سے بچاؤ اور اسے زائل کرنے کو نئے دور کی ایک اہم خصوصیت قراردیا ہے۔ایک موقع پر شی نے ایک غیر ملکی سیاستدان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "یقیناً اتنے بڑے ملک پر حکومت کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری اور مشکل کام ہے۔” "میں بے لوث ہونے اور چین کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں لوگوں کو مایوس نہیں ہونے دوں گا۔”

اصلاحات کی نئی بنیاد ڈالنا

جب شی نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کاعہدہ سنبھالا تواگرچہ 30 سال سے زیادہ جاری رہنے والی اصلاحات اور کھلی معیشت کے بعد چین کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوچکا تھا۔ پھر بھی، ملک کو مسائل درپیش تھے، جن میں معاشی گراوٹ، دولت کی تفاوت، ماحولیاتی نقصانات اور سماجی تناؤ شامل تھے اس صورتحال میں اصلاحات کو بھی کچھ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے ایک زیادہ سائنسی اور اعلیٰ سطح کے نقطہ نظر کی ضرورت تھی۔

شی نے نئے اچھوتے خیالات، مربوط، سبز اور کھلی ترقی کے راستہ کی خصوصیات پر مبنی جدیدیت کا ایک چینی ماڈل پیش کیا۔

 

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
0Shares

Comments are closed.

Translate »