تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم فہرست نکال دیاگیا، نوٹیفکیشن جاری

فوٹو: فائل

اسلام آباد( زمینی حقائق ڈاٹ کام)تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے خار ج کردیاگیاہے ، وزیراعظم عمران خان نے مزاکرات میں طے پانے والے معاملات کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم فہرست سے نکالنے کی وزارت داخلہ کی سمری منظور کرلی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے زریعے سمری کی منظوری دی تھی اور چند وزراء کی مخالفت کے باوجود مطلوبہ تعداد میں وزراء کی حمایت مکمل ہونے کے باعث یہ سمری منظور کر لی گئی تھی ۔

وزراء کی طرف سے سمری کی منظوری پر جو سوالات اٹھے ان میں سرفہرست معاہدہ سے متعلق لاعلمی کااظہار بھی شامل تھا کیونکہ معاہدے سے متعلق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور علی محمد خان ہی کو علم تھا اور باقی وزراء تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔

ٓذرائع کا کہنا ہے جو سمری وزارت داخلہ نے وزیراعظم کو بھجوائی تھی اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پر تشدد احتجاج کا راستہ نہیں اپنائے گی اور ان کی طرف سے درخواست کی گئی تھی کہ نام کالعدم فہرست سے نکالا جائے۔

بعض وزراء نے اختلافی نوٹ میں عدالتی فیصلے ، ایف اے ٹی ایف کے تحفظات،اور پولیس اہلکاروں کی شہادت کاذکر کیا اور یہ نشاندہی کی کہ ٹی ایل پی کو فہرست سے نکالنے کے بعد دیگر جماعتیں بھی اسے مثال بنا کر ایسی درخواست کریں گی۔

اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بھی کہاگیاہے کہ وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کی ذیلی شق ون کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو مذکورہ ایکٹ کے فرسٹ شیڈول سے بطور کالعدم جماعت نکال دیا ہے۔

دوسری طرف کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ کابینہ نے 6نومبر 2021کو داخلہ ڈویژن سے جمع کرائی گئی سمری کا جائزہ لیا جو رولز آف بزنس کے رول 17ون بی اور 19ون کے تحت تحریک لبیک پاکستان سے پابندی ہٹانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا تھا کہ کابینہ نے سمری کے پیراگراف نمبر 8پر دی گئی تجویز کی منظوری دے دی ہیرولز آف بزنس 1973کے مطابق وزیراعظم سے منظوری کا مطلب ہوگا کہ سمری وفاقی کابینہ کو بھیج دی جائے گی۔

 

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے تحریکِ لبیک پاکستان کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور وزارتِ داخلہ کے مطابق تحریکِ لبیک پاکستان کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی منظوری کے لیے ہفتہ کو وفاقی کابینہ کے ارکان کو سمری بھیجی گئی تھی۔

واضح رہے تحریکِ لبیک کو رواں سال 15اپریل کو پنجاب حکومت کی سفارش پر کالعدم قرار دیا گیا تھا جس کے خلاف تنظیم کی جانب سے 29 اپریل کو وزارتِ داخلہ سے رجوع کیا گیا تھا ۔

وفاقی کابینہ کو بھیجی جانے والی سمری میں واضح کیا گیا تھا کہ تحریکِ لبیک کو غیر کالعدم قرار دینے کا فیصلہ وسیع تر قومی مفاد اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے (تحریکِ لبیک کے احتجاج) واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

0Shares

Comments are closed.