ڈاکٹر قدیر کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کااعلان، قومی ہیرو تھے، وزیراعظم

اسلام آباد( زمینی حقائق ڈاٹ کام)وفاقی حکومت نے محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔

محسن پاکستان کے تدفین کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹوئٹر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد میں سپردِ خاک کیا جائے گا،انھوں نے کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔

http://

وزیراعظم نے کہاڈاکٹرعبدالقدیر خان کے انتقال پر بیحد افسردہ ہوں،ہمیں ایک جوہری اسلحے سے لیس ریاست بنانے میں انکے اہم کردار کے باعث قوم انہیں محبوب رکھتی تھی۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ان خدمات نے ہمیں خود سے بہت بڑے ایک جارحیت پسند اور جوہری ہمسائے سے محفوظ بنایا۔ عوامِ پاکستان کیلئے ان کی حیثیت ایک قومی ہیرو کی سی تھی۔

معروف پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیرخان آج صبح انتقال کرگئے ہیں ، محسن پاکستان کی نماز جنازہ آج فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی جائے گی ۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر صبح 6 بجے کے آر ایل اسپتال لایا گیا تھا لایا گیا تھا تاہم ڈاکٹرز سر توڑ کوشش کے باوجو د ان کی زندگی نہ بچا سکے اور وہل صبح 7 بج کر 4 منٹ پر خالق حقیقی سے جاملے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کچھ عرصے سے علیل اور زیر علاج تھے اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کچھ عرصے قبل کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے، ان کے انتقال کی تصدیق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے محسن سے محروم ہو گیا ہے۔

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی 85 برس کی عمر میں انتقال کر نے سے قبل 26 اگست کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی ڈاکٹر عبد القدیر خان پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈ ملے، انہیں 2 بار نشانِ امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ ہلالِ امتیاز بھی عطاء کیا گیا۔

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے28 مئی 1998 کو بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے پہلے ایٹمی تجربے کی نگرانی کی تھی۔ انہوں نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔
محسن پاکستان کے حالات زندگی
ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1396 کو موجودہ بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہو ئے، ڈاکٹر عبد القدیر خان قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے تھے اور انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی، بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے، انہوں نے جرمنی اور ہالینڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں۔

ڈاکٹر عبالدقدیر خان 15 برس یورپ میں رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھتو کی درخواست پر 1976 میں پاکستان واپس آئے، انہوں نے 31 مئی 1976ء میں انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی۔

اسی ادارے کا نام نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

چودہ اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا، اس سے قبل انہیں 1989 میں ہلال امتیاز کے تمغے سے بھی نوازا گیا تھا۔

0Shares

Comments are closed.