پی ڈیم ایم صف میں میر جعفر تھے، بلاول نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی، مولانا

فوٹو:فائل

اسلام آباد( ویب ڈیسک)پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایاہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی اور حکومت کے ساتھ جوڑ گئے، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو صفوں میں میر جعفر کی موجودگی نے نقصان پہنچایا۔

جے یو آئی کے امیر جو کہ پی ڈی ایم کے بھی سربراہ ہیں نے ایک ٹی وی پروگرام، جرگہ، میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی اور خود کو حکومت کے ساتھ جوڑ لیا اس کا اتحاد کو نقصان ہوا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جو پیشکش بلاول بھٹو زرداری کو ہوئی وہ ہمیں بھی کی گئی تھی لیکن ہم نے قبول نہیں کی جب کہ بلاول بھٹو نے پیشکش قبول کرکے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کرلی۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف جاری تحریک کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے بڑے اتحاد پی ڈی ایم ٹوٹنے کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرداری کو قرار دیا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری صفوں میں میرجعفر اور میر صادق ہونیکی وجہ سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کو نقصان پہنچا، بلاول بھٹو، ایک اہم مرحلے پرحکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے۔

استعفوں سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان کاکہنا تھا کہ استعفعوں کا آپشن پی ڈی ایم کے اعلامیہ میں موجود تھا، پیپلزپارٹی ہماری بات مانتی تو آج یہ حکومت ختم ہوچکی ہوتی اور آج الیکشن بھی ہو چکے ہوتے۔

انہوں نے پروگرام کے دوران یہ دعوی ٰ کیا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ نوٹس میں ہے مگر ہم کوئی محاذ نہیں کھولنا چاہتے، اگر ہم محاذ کھولنے پر آگئے تو ایک سوئی بھی نہیں رہے گی۔

واضح رہے پی ڈی ایم کے درمیان استعفے دینے کے معاملے پر اختلاف رائے سامنے آیا تھالیکن پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سندھ میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود استعفے دینے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔

آصف زرداری کا موقف تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کو موثر بنانے کیلئے مرکز اور صوبوں میں استعفے دینے کو تیار ہیں لیکن تحریک چلانی ہے تو پھر جیلو ں میں جانے سے نہ ڈریں ، انھوں نے نواز شریف کی ویڈیو لنک پر موجودگی میں انھیں پاکستان آنے کی دعوت دے دی۔

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ نواز شریف پاکستان آئیں تحریک کو لیڈ کریں اوراس دوران اگر ہمیں جیلوں میں بھی جانا پڑے تو اس کیلئے تیار ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ لند ن بیٹھے مزے کریں اور ہم اسمبلیاں چھوڑ کر سڑکوں پر آ جائیں۔

0Shares

Comments are closed.