اشرف غنی افغانستان سے فرار ہوگا یہ اندازہ نہیں تھا، امریکی صدر


واشنگٹن( ویب ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی افغانستان سے فرار ہوجائے گا، افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، انخلا کا فیصلہ سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ کیا تھا۔

افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی لیکن افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

امریکی صدر نے کہاکابل سے فوجیوں، شہریوں کے خطرناک انخلا کا چیلنج پورا کیا، 30 ہزار افغان فوجیوں کو 20 سال میں تربیت دی، افغان جنگ کے خاتمے کا فیصلہ میں نے کیا، کابل کی سیکیورٹی کے لیے 6 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔

جوبائیڈن نے کہا کہ 17 دن پہلے جب انخلا کا فیصلہ کیا تو حالات کا باریکی سے جائزہ لیا، داعش کے حملے میں ہلاک 13 امریکی فوجیوں کا کوئی نعم البدل نہیں، امریکی افواج کی افغانستان میں قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

امریکی صدر جوبائیڈن کا کہناتھا کہ امریکی شہری 100 سے 200 اب بھی افغانستان سے انخلا چاہتے ہیں، جو امریکی شہری افغانستان سے نکلنا چاہیں گے ان کی مدد کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی فوج نے خطرناک مشن احسن طریقے سے پورا کیا، سلامتی کونسل نے بھی طالبان کو وعدے پورے کرنے کی تاکید کی، طالبان نے خود انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا افغانستان سے جو بھی جانا چاہے اسے اجازت ہو طالبان وعدہ پورا کریں، طالبان کے بیانات پر یقین نہیں ان کے عمل کو دیکھیں گے وہ کیا کرتے ہیں تب یقین ہو گا۔

0Shares

Comments are closed.