جسٹس فائز عیسیٰ طبیعت زیادہ بگڑنے پر اسپتال منتقل

اسلام آباد (زمینی حقائق ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کورونا کے باعث قوت مدافعت میں تشویش ناک کمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور ادویات غیر موثر ہوگئیں.

سٹی اسکین کی رپورٹ بھی تسلی بخش نہیں آئیں اور ڈاکٹرز کے مشورے پر سپریم کورٹ کے سینئر جج کو نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ناساز طبیعت کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا ایک روز قبل سٹی اسکین کیا گیا.

انکی رپورٹ کو ڈاکٹرز نے تسلی بخش قرار نہیں دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کی قوت مدافعت میں بھی تشویش ناک کمی ہوئی جس کے بعد ادویات غیر موثر ہوگئیں۔

اس صورتحال میں ڈاکٹرز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مزید علاج کیلئے ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی جس کے بعد انہیں قائداعظم ہسپتال منتقل کر دیا گیا.

اردو پوائنٹ کے مطابق 29 جولائی کو بھی کورونا وائرس کا شکار سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ڈاکٹرز نے 2 بار معائنہ کیا۔

عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بولتے ہوئے تکلیف کا سامنا ہے، وہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر گھر میں قرنطینہ کیئے ہوئے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو گزشتہ رات اسکین کیلئے ہسپتال بھی لے جایا گیا، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی طبیعت بھی گزشتہ روز بگڑ گئی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آن لائن ڈھائی گھنٹے تک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اٹینڈ کیا تھا۔عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد سے بولتے وقت سینے میں شدید دکھن شروع ہوئی جس پر انہیں اسکین کیا گیا.

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کی اہلیہ مسز سرینا عیسی کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر گھر میں قرنطینہ کیے ہوئے تھے اور ان کا گھر میں ہی علاج جاری تھا۔

0Shares

Comments are closed.