امریکہ، نیٹو افغانستان میں سودے بازی کی طاقت کھو چکے ہیں، عمران خان

0 0
Read Time:2 Minute, 29 Second


اسلام آباد( زمینی حقائق ڈاٹ کام )وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے امریکا نے پہلے افغانستان میں مداخلت کی اور جب طویل جنگ کے باوجود اپنی پوزیشن کمزور ہوتے دیکھی توتب سیاسی تصفیہ کا موقف اپنایا امریکا نے اچانک انخلاء سے افغانستان میں صورتحال بہت خراب کردی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اوران حالات میں اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان میں بھی سول وار کا خدشہ ہے۔

عمران خان نے کہ افغانستان پاکستان پر 10ہزار جنگجو بھیجنے کاالزام لگاتاہے تو پھر ثبوت کیوں نہیں دے رہا؟ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں، افغان مہاجرین کے کیمپ ہیں اور ہم مہاجرین کی بھی واپسی چاہتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ افغانستان پہلے اپنے مہاجرین کو واپس لے پھر پاکستان سے جواب طلبی کرے، جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ نیٹو فورسز تھیں تو اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا اور نیٹو فورسز اب غیر فوجی حل چاہتے ہیں جب ان کے پاس سودے بازی کی طاقت نہیں رہی ہے کیونکہ
اب طالبان کو سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہے، وہ خود کو فاتح سمجھ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان کے سیاسی حل کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں تاہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے ، افغانستان میں امن چاہتے ہیں اورکسی محاذ آرائی کاحصہ نہیں بننا چاہتے کیونکہ پاکستان نے افغان جنگ کا حصہ بن کر 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ۔

عمران خان نے امریکی نیوز پروگرام پی بی ایس نیوز آوور میں انٹرویو میں کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ امریکا نے صورتحال بہت خراب کردی ہے،
وزیر اعظم نے امریکا کو افغانستان میں فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ ایسا کبھی تھا ہی نہیں۔

انھوں نے اپنے دیرینہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مجھ جیسے لوگ جو کہتے رہے کہ فوجی حل ممکن نہیں، جو افغانستان کی تاریخ جانتے ہیں، ہمیں امریکا مخالف کہا گیا، مجھے طالبان خان کہا جاتا تھا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب امریکا کو یہ احساس ہوا کہ افغانستان میں کوئی فوجی حل نہیں ہے بدقسمتی سے امریکیوں شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن فورسز نیٹو سودے بازی کی پوزیشن کھو چکے تھے۔

اس سوال پر کہ کیا ان کا خیال ہے کہ طالبان کی بحالی افغانستان کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے رو وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا واحد بہت نتیجہ ایک سیاسی تصفیہ ہوگا جو جامع ہو،انہوں نے کہا ظاہر ہے کہ طالبان اس حکومت کا حصہ ہوں گے۔

عمران خان نے کہا پہلے ہی پاکستان 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور ہمیں جو خدشہ لاحق ہے وہ یہ ہے کہ ایک طویل خانہ جنگی مزید مہاجرین کو لائے گی اور ہماری معاشی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ ہم مزید آمد برداشت کرسکیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Comments are closed.

Translate »