حلوہ اتحاد کا حصہ نہیں ، آر پار والے پاوں پکڑنے پر آگئے، بلاول


عباس پور( زمینی حقائق ڈاٹ کام )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے جو کہتے تھے کہ آر پار ہو گاوہ اب پاوں پکڑ نے تک پہنچ چکے ہیں ہمارے سیاسی حلیف ساتھ مل کرکٹھ پتلی کوگرانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

عباس پور آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ہمارے دوست چاہتے تھے کہ ضمنی الیکشن عمران کو تحفے میں دے دیں لیکن ہم نے ضمنی الیکشن میں کٹھ پتلی کو شکست دی۔

انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد اسلام آباد کا رخ کریں گے، بنی گالا کی طرف آئیں اور کٹھ پتلی کو بھگائیں گے، منافق جھوٹ بولتاہے اور یوٹرن لیتاہے، پچاس لاکھ گھربنانے والے نے لوگوں سے چھت چھین لی۔

انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کی ذمہ داری ہے کٹھ پتلی سے خود کو بچائیں، کشمیرکے عوام نے سب کو بھگتاہے، کٹھ پتلی پورے ملک کا خون چوس رہاہے۔

ہم تین سال سے اس کٹھ پتلی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کوملنے جیل تک پہنچے، لیکن ہمارے سیاسی حلیف ساتھ مل کرکٹھ پتلی کوگرانے میں سنجیدہ نہیں، ہم عمران کو ایک انچ کی بھی گنجائش نہیں دیں گے۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ، پاکستان پیپلز پارٹی کسی کے پاؤں نہیں پکڑیگی، آپ کہتے تھے آر یا پارہوگا، اب پاؤں پکڑ رہے ہو، نظریاتی سفرآرپارسے ہوتے ہوئے پاؤں پکڑنے تک پہنچ چکے ہیں۔

بلاول نے کہا ہم نے بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا سوچا تھا، زرداری کو اسپتال سے لے کر آئے لیکن ادھر دیکھا تو خاموشی تھی، ہم امید رکھتے تھے کہ شہباز شریف اور مولانا ان ممبران سے پوچھیں گے کہ وہ اسمبلی اجلاس میں کہاں تھے۔

فضل الرحمان ان کو شوکاز دیں جو بجٹ اجلاس سے غائب تھے، نہاری، حلوہ کھانے کیلئے بنائے گئے اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن وہ اب بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعمتاد لائیں توہم ان کے ساتھ ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیریوں کے فیصلے کودہلی اور اسلام آباد کو مانناپڑے گا، کشمیری حکم کریں کل جنگ کریں تو کل جنگ ہوگی، کشمیرکے عوام کیساتھ مل کر مقبوضہ وادی کا مقدمہ لڑیں گے، کشمیرکیلئے ہزارسال جنگ کرناپڑی تولڑیں گے۔

مقبوضہ کشمیرمیں جوظلم ہورہاہے وہ آزادکشمیر کے عوام کیلئے ناقابل قبول ہے، اس طرف ظلم کے پہاڑتوڑے جارہے ہیں،عمران کا جواب ہوتاہے میں کیاکروں؟ انھوں نے سوال کیا کہ مودی کے ظلم پرعمران خان کا جواب سے کیا آپ مطمئن ہو؟ہم مودی کیلئے دعامانگتے ہیں نہ اسے شادیوں کی دعوت دیتے ہیں۔

0Shares

Comments are closed.