بھارت کو تجارت کیلئے مقبوضہ کشمیر ‘اقدام’ واپس لینا ہوگا، عمران خان

0 0
Read Time:4 Minute, 38 Second


اسلام آباد( زمینی حقائق ڈاٹ کام)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے اور وقت کے ساتھ تجارت کے شعبے میں دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوں گے ،دونوں ممالک میں دفاع اور تعلیم کے شعبوں میں معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھاپاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس کیلئے گوادر کنیکٹیوٹی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور تاجکستان کو مستقبل کے حوالے سے کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، تاجکستان سے تجارت اور کنیکٹیوٹی بڑھانے کے لیے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ امریکا کے انخلا تک افغانستان میں سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو کہیں سوویت یونین کے چھوڑ کر جانے کے بعد والی صورتحال نہ پیدا ہوجائے جو دونوں ممالک کے لیے بہت نقصان دہ ہوگی،افغانستان میں انتشار پھیلنے کی صورت میں ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی۔

وزیرعظم پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے، ابھی بھی پاکستان کو افغانستان سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور استحکام نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ جائے گی،دونوں ممالک کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ افغانستان میں سیاسی تصفیہ ہو تاکہ جب امریکا وہاں سے جائے تو استحکام ہو۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں کوئی یسی متفقہ حکومت ہو جو اس انتشار کو روک سکے، اس لیے دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان میں سیاسی تصفیے کی کوشش کی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو جو دوسرا مشترکہ چیلنج درپیش ہے وہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، تاجکستان کا بھی پورا پانی گلیشیئرز سے آتا ہے جبکہ پاکستانی دریاؤں میں بھی 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان علاقائی فوائد اس وقت حاصل کر سکتا ہے جب خطے میں امن ہو، بھارت کی طرف سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اقدام اٹھائے جانے کے بعد ہمارے لیے ان کے ساتھ تجارت معمول پر لانا بہت مشکل ہے۔

انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کشمیریوں کی قربانیوں کے ساتھ غداری ہوگی، لہٰذا بھارت جب تک یہ اقدامات واپس نہیں لیتا ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے جس کا نقصان ان دونوں ممالک کے علاوہ پورے وسطی ایشیا کو ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے درمیان اسلاموفوبیا کے حوالے سے بھی بات ہوئی، مغرب میں آزادی اظہار کے نام پر نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے جبکہ اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور کسی دوسرے مذہب کو نہیں جوڑا جاتا، ان دو وجوہات کی وجہ سے اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ باہمی تعاون کیلئے ،نیب کی تاجک کرپشن بیورو سے جو ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں، یہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے پینل کے مطابق ترقی پذیر ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب روپے بیرون ممالک آف شور اکاؤنٹس میں جاتے ہیں۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے کہا کہ پاکستان کو دوست ملک اور قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتے ہیں وزیر اعظم عمران خان سے آج کی ملاقات روایتی دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ تاجکستان دونوں ممالک کے اعلیٰ وفود کے درمیان ملاقات سے مطمئن ہے۔

پاکستان کو دوست اور قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتے ہیں، تاجک صدر

ان کا کہنا تھا کہ وفود کی سطح پر تعمیری بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے بین الجہتی تعلقات پر گفتگو ہوئی اور کئی دوطرفہ معاملات پر نکتہ نظر میں مماثلت پائی گئی،تاجکستان، پاکستان کو دوست ملک اور قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتا ہے، ہم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مسلسل روابط سے مطمئن ہیں۔

اس موقع پرتاجک صدر نے کہا کہ آج دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط سے دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی اور وہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوں گے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے تاجک صدر امام علی رحمٰن نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ تاجکستان کے دوران ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے، ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس اجلاس کے کامیاب انعقاد اور بھرپور میزبانی پر تاجک صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاسا 1000 جیسے اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل جنوبی و وسطی ایشیا کے مابین توانائی راہداری کے قیام میں معاون ثابت ہوگی، تعلیم، ہاؤسنگ، انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
0Shares

Comments are closed.

Translate »