خواتین آن لائن بزنس اور فری لانسنگ کو زریعہ معاش بنائیں

2 0
Read Time:9 Minute, 39 Second


ثاقب لقمان قریشی

نام: اقصیٰ شاہد
رہائش: کریم پارک لاہور
تعلیم: ایم اے اسلامیات
ایوارڈ؛ ا۔جدیجتہ الکبریٰ ایوارڈ ب۔ انٹرنیشنل یوتھ آئیکن ایوارڈ
شعبہ: آن لائن بزنس

خاندانی پس منظر:

والد صاحب واپڈا سے ریٹائرڈ ہیں۔ خاندان ایک بھائی اور بہن پر مشتمل ہے۔ بھائی کی تعلیم گریجویشن ہے، فیروزسنز میں ایریا مینیجر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

معذوری کی وجوہات:

مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ بیماری کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ہونا شروع ہوئے جب اقصٰی نے نارمل بچوں کی طرح چلنا شروع نہیں کیا تو والدین پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ شروع کے دنوں میں ڈاکٹر اسے کمزوری قرار دیتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسائل میں شدت آتی چلی گئی، مختلف ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹرز نے مرض کو مسکولر ڈسٹرافی قرار دیا۔ والدین نے علاج کی ہر ممکن کوشش کی، اپنی استطاعت سے بڑھ کر ڈاکٹر خالد جمیل سے لے کر قاضی ، چلڈرن اور جرنل ہسپتال تک سے علاج کروایا۔ اقصٰی کے انکل میو ہاسپٹل میں ڈاکٹر تھے جنھوں نے علاج میں بہت معاونت کی لیکن خاص فرق نہیں پڑا۔. ‘زمینی حقائق ڈاٹ کام’ کیلئے ان کا انٹرویو نذر قارئین ہے.

سوال: بچپن کیسا گزرا کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟

اقصی عام بچوں کی طرح بھاگنے دوڑنے والے کھیل نہیں کھیل سکتی تھیں اسی لیئے گھر کے اندر کھیلے جانے والے کھیل کھیلا کرتیں۔ بچپن کو بہترین قرار دیتی ہیں۔ تایا ابو ساتھ ہی رہا کرتے تھے۔ سب کزنز مل کر خوب باتیں کیا کرتے تھے۔ لڈو کھیلنا، پرانی کاپیوں کا بلاء اور کاغذ کی بال بنا کر کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ کزنز کے ساتھ مل کر ڈول ہاؤس بنانا، گڑیوں کی شادی کرنا بہت پسند تھا۔رسائی کی وجہ سے آنے جانے میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا لیکن گھر والے ہمیشہ سائے کی طرح ساتھ رہتے تھے جسکی وجہ سے کبھی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

سوال: ابتدائی تعلیم کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

تعلیم کا آغاز گھر کے نزدیک لاہور کے ایک مشہور سکول سے کیا۔۔ اقصی کے بھائی اور کزنز بھی اسی سکول میں زیر تعلیم تھے اسلیئے والدین نے اسی سکول کو مناسب سمجھا۔
ابتدائی ایام میں والدہ صاحبہ ننھی اقصٰی کو گود میں اٹھا کر سکول لایا لے جایا کرتی تھیں۔ چھوٹی جماعتیں نچلی منزل پر ہونے کی وجہ سے کبھی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بڑی جماعتوں میں جاتے ہی مسائل کا آغاز شروع ہوگیا۔ کلاس تک رسائی کیلئے سو سیڑھیاں چڑھنی پڑھتی تھیں جو اقصی کیلئے ناممکن تھا۔بڑے بھائی نے اقصی کے شوق کو دیکھتے ہوئے اٹھا کر اوپر لانے لے جانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ سکول کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں بھر پور تعاون کرتے ہوئے اقصی کو نیچے ہی بٹھایا اور کلاس میں جو کام ہوا کرتا وہ انکے پاس بھیج دیا جاتا اور یہ نیچے ہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام کر لیا کرتیں۔ سکول والے اس وقت حیران ہونا شروع ہوئے جب اقصی نے نیچے بیٹھے بیٹھے اول پوزیشن حاصل کرنا شروع کی۔ نویں جماعت میں اقصٰی نے لاہور بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے سکول اور خاندان کو حیران کر دیا۔ جس کے بعد پرنسپل نے گھر والوں کو بلا کر کہا کہ آپ کی بچی خداداد صلاحیتوں کی مالک ہے یہ بورڈ میں ٹاپ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر جماعت کے ساتھ ریگولر پڑھے تو یہ بورڈ میں ٹاپ کر سکتی ہے۔ اس طرح بھائی کو گرلز سکول میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ دسویں جماعت کے رزلٹ میں بھائی اور سکول انتظامہ کی محنت رنگ لائی ۔اقصی نے 1050 میں سے 943 نمبر حاصل کر کے والدین اور سکول کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

سوال: کالج کی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ کن مسائل کا سامنا رہا؟

ہونہار طالب علم ہونے کے باوجود کالج آنا جانا اور رسائی کے معاملات اقصی کی تعلیم کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے۔ بہت سے کالجز کے دوروں کے بعد والدین نے گھر کے نزدیک ترین کالج کو اقصٰی کیلئے مناسب قرار دیا۔ اسطرح کالج کی تعلیم کا سفر گورنمنٹ ڈگری کالج فار وومن بلال گنج سے شروع ہوا۔
اقصٰی کیلئے روز آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے کالج کی پرنسپل سے روز آنے جانے کی رعایت سے متعلق بات کی گئی۔ پرنسپل نے جواب دیا کہ ایسا ممکن تو نہیں ہے لیکن وہ بچی کی ایک ماہ کی تعلیمی کارکردگی دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ کر پائیں گیں۔ اقصٰی کی ایک ماہ کی شاندار کارکردگی دیکھنے کے بعد پرنسپل بہت متاثر ہوئیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ شرط عائد کی گئی کہ اقصٰی کو ہفتے میں ایک دن کالج ضرور آنا ہوگا۔ اس دن یہ پورے ہفتے کا کام لیا کریں گی اور پچھلے ہفتے کے کام کا ٹیسٹ بھی دیا کریں گی۔
ایف ایس سی کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ لیکن بیماری، اوپر نیچے کی کلاسز اور رسائی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا۔ ایف ایس سی میتھ، سٹیٹس اور اکنامکس میں کی۔ اسکے بعد امتیازی نمبروں کے ساتھ بی اے بھی اسی کالج سے کیا۔

سوال: ایم اے اوپن یونیورسٹی سے کیوں کیا؟ کیا اوپن یونیورسٹی میں رسائی کا مناسب خیال رکھا جاتا ہے؟

کالج آنے جانے کی ٹینشن سے بچنے کیلئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اوپن یونیورسٹی کے نظام کو خصوصی افراد کے لیئے بہترین قرار دیتی ہیں۔ فاصلاتی نظام تعلیم میں پروفیشنل مضامین کی شمولیت کو وقت کی ضرورت قراد دیتی ہیں۔
ورک شاپ اور پرچوں کے لیے رکشہ میں سفر کرنا پڑتا تھا جو کہ اقصٰی کے لیے بہت مشکل تھا۔ ورک شاپس اور پرچے اکثر اوپر کی منزلوں پر ہوا کرتے تھے جس کی وجہ سے مشکل پیش آیا کرتی تھی۔ تمام مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اقصی ایک بار پھر امتیازی نمبروں سے ایم اے کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

سوال: اسلامی تعلیمات خصوصی افراد کو کس طرح تحفظ فراہم کرتی ہیں؟

اسلامی تعلیمات خصوصی افراد کو عام انسان کے مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
"نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لیے اس سے زیادہ برائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے”
"حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال سے معذوروں کا حصہ مقرر کر رکھا تھا اور بہت سی معاشرتی ذمہ داریوں سے مستثنٰی کر رکھا تھا”

سوال: مستقل نوکری کیوں اختیار نہیں کی؟

مستقل نوکری اقصٰی کا خواب ہوا کرتا تھا۔ نوکری کیلئے بہت سی کوششیں بھی کیں۔ لیکن معذوری کو دیکھتے ہوئے انکی صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ تھک ہار کر آن لائن بزنس کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

سوال: آرٹ کا شوق کب سے ہے؟ آرٹ ورک میں کیا کیا کرتی ہیں؟

شروع سے ہی تخلیقی صلاحیتوں کی مالک ہیں۔ ڈرائنگ، پینٹنگ، پرانی چیزوں کی ریسائیکلنگ کا شوق بچپن سے ہے۔ سکول کے زمانے میں اقصٰی کی ڈرائنگ بہت مشہور ہوا کرتی تھی۔ جماعت میں لگے چارٹس اقصی سے ہی بنوائے جاتے تھے۔
آرٹ ورک میں اقصٰی کلے سے جیولری بناتی ہیں، کیلیگرافی کرتی ہیں اسکے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء جیسے نکاح کیلئے منفرد اقسام کے قلم، دودھ پلائی کےگلاس، جیولری وغیرہ بھی بناتی ہیں۔

سوال: اقصٰی آرٹ گیلری کے نام سے پیج کب بنایا؟ اسے کتنے لوگ فالو کرتے ہیں؟

اپنے تخلیقی کام کو بڑے پیمانے پر فروخت کرنے کیلئے اقصیٰ نے 2016 میں اقصٰی آرٹ گیلری کے نام سے فیس بک پر ایک پیج بنایا۔ جسے ساڑھے سات ہزار لوگ فالو کرتے ہیں۔ اس پیج پر شادی بیاہ کی تقریبات میں استعمال ہونے والی اشیاء، جیولری، میک اپ کا سامان، پرس، ڈیکوریشنز اور دیگر ہاتھ سے بنی مختلف اشیاء فروخت کی جاتی ہیں۔

سوال: آن لائن بزنس کیا ہوتا ہے؟ پہلا آن لائن آرٹ کیا تھا اور کتنے میں فروخت ہوا؟

آن لائن بزنس میں انٹرنیٹ کے ذریعے چیزوں کی خیرید و فروخت ہوا کرتی ہے۔ آن لائن بزنس کی چار اقسام ہیں۔ پہلی قسم کو بی ٹو سی یعنی بزنس ٹو کنزیومر، بزنس کی اس قسم میں کنزیومر انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف اشیاء خریدتا ہے۔ دوسری قسم کو سی ٹو سی کہا جاتا ہے۔ جس میں کوئی شخص اپنی کسی چیز کو فروخت کرنے کیلئے انٹرنیٹ کا سہارا لیتا ہے۔ تسیری قسم کو سی ٹو بی کہا جاتا ہے جس میں کنزیومر کمپنیز کو سروسز یا بزنس فراہم کرتا ہے۔ چوتھی اور آخری قسم کو بی ٹو بی کہا جاتا ہے۔ جس میں کمپنیوں کے درمیان کاروباری معاہدہ ہوتا ہے۔ جس کے تحت کمپنیاں ایک دوسرے کو بزنس فراہم کرتی ہیں۔
آن لائن بزنس کی بنیاد آئس کریم سٹکس سے بنے ایک گھر کی فروخت سے ہوئی ۔ اس کی تیاری میں بیس دن لگے۔ یہ گھر دوہزار روپے میں فروخت ہوا۔

سوال: کیا لاک ڈاؤن نے آن لائن بزنس کو بھی متاثر کیا؟

لاک ڈاؤن نے کاروبار کو شیدید نقصان پہنچایا۔ کچھ صنعتیں تباہ ہوئیں، کچھ شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ آن لائن بزنس کا معاملہ اس کے برعکس رہا۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں لوگوں نے آن لان شاپنگ کو ترجیح دی جس کی وجہ سے آن لائن بزنس کافی بہتر رہا۔ فارغ وقت میں اقصٰی ٹیوشن بھی پڑھاتی ہیں۔جو لاک ڈاؤن کے دنوں میں کافی متاثر ہوا۔

سوال: کتنے ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں؟ گھر والوں کی طرف سے کتنی پزیرائی ملتی ہے؟
اب تک دو بڑے ایوارڈز حاصل کرچکی ہیں۔ 2018 میں ملک میں پہلی مرتبہ خدیجتہ الکبریٰ کا انعقاد کیا گیا۔ ملک بھر سے بیس خصوصی لڑکیوں کو ایوارڈ کیلئے چنا گیا۔ تقریب میں اقصٰی کو رول ماڈل ایوارڈز سے نوازا گیا۔
دوسرا ایوارڈ یوتھ آئیکن ایوارڈ تھا جسکا انعقاد 14 اگست 2018 کو کیا گیا۔اس تقریب میں ملک بھر سے دس نوجوانوں کو یوتھ آئیکن ایوارڈ سے نوازا گیا جس میں اقصٰی بھی شامل تھیں ۔ پروگرام میں اقصٰی نے خصوصی افراد کی نمائندگی بھی کی۔
اقصٰی کہتی ہیں کہ یہ آج جس مقام پر ہیں اپنے خاندان کی سپورٹ کی وجہ سے ہیں۔ ایوارڈ کی تقریبات میں انھوں نے اپنے گھر والوں کے چہروں پر خوشی اور آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے۔

سوال: خصوصی خواتین کی تعلیم کے راستے کی بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

رسائی کو خواتین باہم معذوری کیلئے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتی ہیں۔گھر سے تعلیمی ادارے تک کا سفر، پھر تعلیمی ادارے کے اندار رسائی میں مشکلات کی وجہ سے بہت سی خصوصی خواتین حصول تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

سوال: فارغ وقت میں کیا کرنا پسند کرتی ہیں؟

فارغ وقت گھر والوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ کتابیں، ناول اور اپنے کام کیلئے نئے آئیڈیاز ڈھونڈنا بھی فارغ اوقات کے مشاغل میں شامل ہے۔

سوال: کیا کھانا پکا لیتی ہیں؟ کھانے میں کیا چیز پسند ہے؟

کھانا بنانے کا بہت شوق ہے لیکن معذوری کی وجہ سے حرکت کرنے میں اور چیزیں اٹھانے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسلیئے چاہتے ہوئے بھی نہیں بنا پاتیں۔ کھانے میں فاسٹ فوڈ پسند کرتی ہیں۔
سوال: مستقبل میں کیا کرنا چاہتی ہیں؟
بیشتر خصوصی خواتین بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود اپنا لوہا منوانے میں ناکام رہتی ہیں ۔ اقصٰی اپنے پیج پر اسیا سیٹ اپ ترتیب دینا چاہتی ہیں جہاں خصوصی خواتین کو مفت ہنر سکھانے اور انھیں بیچنے کے گر سکھائے جاتے ہوں۔ اپنے مشن کی تکمیل کیلئے اچھے ڈونرز کی تلاش میں ہیں جو انھیں اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے مالی معاونت فراہم کریں۔

سوال: خواتین باہم معذوری کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

خدا نے دنیا میں کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے۔ خصوصی خواتین تعلیم اور ہنر کے حصول پر بھر پور توجہ دینے کی کوشش کریں۔ انٹرنیٹ کا سمجھداری سے استعمال کریں اور اس سے رزق تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

Happy
Happy
33 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
33 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
33 %

Comments are closed.

Translate »