ریاض،تخیل ادبی فورم کامحفل مشاعرہ، پاکستانی سفیر مہمان خصوصی تھے

الریاض (رپورٹ…ابرار تنولی) معروف ادبی تنظیم "تخیل ادبی فورم” کے زیر اہتمام سفارت خانۂ پاکستان الریاض میں رواں سال کی الوادعی ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز تھے.

تقریب میں شوکت جمال،  عقیل قریشی اور سعید اشعر بطور مہمانِ اعزازی شریک ہوئے جبکہ صدارت فورم کے صدر  محسن رضا سمر نے کی، نظامت کے فرائض  یوسف علی یوسف اور راشد محمود کے پاس تھے ۔ تلاوت قرآن پاک حافظ عبد الوہاب اور ہدیۂ نعتِ رسول مقبول صلٰہ اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عقیل قریشی نے پیش کی۔

تقریب کے آغاز میں تخیل ادبی فورم کے پیٹرن ان چیف منصور محبوب نے تخیل ادبی فورم کا سپاس نامہ پڑھ کر سنایا ۔

روک سکتا ہی نہیں میرے تخیل کی اڑان
شور کتنا  بھی  کرے حلقہ کسی زنجیر کا

تقریب کے ابتدائی حصہ میں مقبوضہ کشمیر میں موجود مسلمانوں پہ طاری ظلم و ستم کے حوالے سے تخیل ادبی فورم کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری راشد محمود نے مقبوضہ کشمیر پہ ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کا تفصیلی ذکر کیا ۔

شاہد خیالوی اور صدف فریدی نے کشمیر پہ اپنی نظمیں سنا کر سامعین کے جذبات اجاگر کئے، تقریب کا دوسرا حصہ روایتی مشاعرے پہ مشتمل تھا.

مقامی اور منطقہ شرقیہ سے آئے شعراء افتخار ساحل، شہباز صادق، فیصل اکرم، پیر اسد کمال، فیاض بھٹی، آر ایم اقبال، رانا سبحان، کامران ملک، صابر امانی، شاہد خیالوی، منصور محبوب، صدف فریدی، یوسف علی یوسف، سعید اشعر، شوکت جمال اور محسن رضا سمر نے اپنا تازہ کلام سنا کر سامعین سے خوب داد وصول کی ۔

تقریب کے دوران مہمانِ خصوصی راجہ علی اعجاز نے "تخیل ادبی مجلے” کے پہلے شمارے کی رونمائی کی اور عقیل قریشی کو ان کی سعودی عرب میں قیام کی دوران ادبی اور ثقافتی خدمات پر تخیل ادبی و ثقافتی ایوارڈ پیش کیا ۔

تخیل ادبی فورم کے پیٹرن ان چیف منصور محبوب نے سفیر پاکستان کو ان کی کیمیونٹی کے لیے سفارتی خدمات پہ تخیل سماجی ایوارڈ پیش کیا، تقریب میں موجود شرکاء،  صحافیوں اور سفارت خانہ کے عملے شکریہ ادا کیا

تقریب کی آخر میں سفیرِ پاکستان راجہ علی اعجاز  نے اظہار خیال کرتے ہوئے تخیل ادبی فورم کی  انتظامیہ کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور مسئلہ کشمیر پہ بات کو پروگرام کا حصہ بنانے پہ خراج تحسین پیش کیا ۔

اس سے قبل تخیل ادبی فورم کی جانب سے شرکاء کو عشائیہ بھی دیا گیا، مشاعرے میں خواتین  سمیت سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

0Shares

Comments are closed.