مریم نواز کا آصف زرداری سے مکالمہ، ن لیگ بڑی جماعت ہو کر پی ڈی ایم کیساتھ چلی

0
0 0
Read Time:1 Minute, 55 Second

اسلام آباد(زمینی حقائق ڈاٹ کام) پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف زرداری کے خطاب نے ماحول گرما دیا بعد میں لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پی پی شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے مکالمہ میں گلہ کیا.

مریم نواز نے نواز شریف سے متعلق گفتگو پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، زرداری صاحب، زندگی کی گارنٹی دیں تو میاں صاحب واپس آ جائیں گے۔

اجلاس سے خطاب میں جب آصف زرداری نے کہا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں، لڑنا ہے تو سب کو جیل جانا پڑے گا، میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر جنگ کو تیار ہیں تو واپس وطن آنا ہوگا۔

مریم نواز نے والد کی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں، جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ہیں، نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے، میرے والد کو جیل میں 2 ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں۔

مریم نواز نے آصف زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میں آپ کی بیٹی جیسی ہوں، گلہ کرنا میرا حق ہے، مجھے میرے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا، آپ نے بھی 100 سے زائد نیب کی پیشیاں بھگتیں.

جواب میں آصف زرداری نے مریم نواز سے معذرت کر لی، تاہم مریم نے کہا میرا مقصد آپ سے معذرت کرانا نہیں تھا، آصفہ، بختاور کی طرح آپ سے گلہ کیا، اس بات کو اب ختم کر دیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ن لیگ نے سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود پی ڈی ایم کا ساتھ دیا، پارٹی نے پی ڈی ایم کے فیصلوں پر عمل کیا اور کرایا، پوری مسلم لیگ ن نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیے۔

انھوں نے کہا پیپلز پارٹی استعفوں کے خلاف تھی، لیکن ن لیگ نے اتفاق رائے کے لیے آپ کی حمایت کی، سب جماعتوں کا اتفاق تھا، اب استعفوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

اس سے قبل آصف زرداری نے اجلاس سے خطاب کہا تھا کہ میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں، جنگ کو تیار ہیں تو واپس وطن آنا ہوگا، میں جنگ کے لیے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے، ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے ہماری راہیں جدا ہو جائیں.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
100 %
Surprise
Surprise
0 %
0Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »