عاصم باجوہ کا الزامات کی تردید کے باوجود مستعفی ہونے کافیصلہ

0
0 0
Read Time:4 Minute, 9 Second

فوٹو: فائل

اسلام آباد( زمینی حقائق ڈاٹ کام )وزیراعظم کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم وہ سی پیک اتھارٹی کی چیئرمین شپ کی ذمہ داریاں بجا لاتے رہیں گے۔

عاصم سلیم باجوہ نے اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے درخواست کروں گا کہ وہ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے سبکدوش کردیں۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل یعنی سی پیک پر توجہ رکھنا چاہتا ہوں، فیملی کو اپنے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا تو سب خوش ہوئے ہیں،انھوں نے واضح کیا کہ وہ وزارت اطلاعات ذمہ داری لینا نہیں چاہتا تھا۔

انھوں نے کہا میڈیا اور حکومت میں پل کا کردار ادا کرسکتا ہوں، اس لیے ذمہ داری لی، وزارت اطلاعات میں ذمہ داری ملکی خدمت کے لیے لی تھی۔

عاصم باجوہ نے کہا کہ پاکستان آرمی کا افسر تھا اور کشمیر کے محاذ پر بھی تعینات رہا، میں پاکستان میں ہوں اور میرے بھائی امریکا میں کاروبار کررہے ہیں، ملک میں ہوتے ہوئے امریکا میں بھائیوں کے کاروبار کو کیسے بڑھا سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سوال کے جواب میں کہا کہ مضحکہ خیز تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، سدرن کمانڈ میں تھا تو اس وقت سی پیک سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا، میرے بچوں کی کسی کمپنی نے سی پیک میں کام نہیں کیا، میرے بچوں کی کمپنیاں غیرفعال ہیں آج تک بینک اکاؤنٹ نہیں کھولا۔

عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ بچے میرے زیر کفالت نہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کامیاب ہیں، میرے بچوں کی عمریں 32، 33 اور 27 سال ہے، بچوں نے اپنی کمپنیاں بنائیں اور کاروبار کیا ہے۔

عاصم باجوہ نے جیوکے پروگرام میں کہا کہ مضحکہ خیز الزامات عائد کرنے پر قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے اور قانونی کارروائی کرسکتا ہوں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ قانونی کارروائی کب کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہاخود پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں، صبح وزیراعظم عمران خان کو اپنا استعفیٰ پیش کردوں گا،میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میری توجہ ایک طرف ہونی چاہیے،اسی لیے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیراعظم کی بھی اس وقت سی پیک بہت بڑی ترجیح ہے، یقین ہے کہ وزیراعظم مجھے سی پیک میں مزید توجہ لگانے کی اجازت دیں گے۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ امریکا میں کاروبار2002 میں شروع ہوا، 60 ملین ڈالربینک کاقرضہ ہے، 50سرمایہ کار ہیں، کاروبار 2002 میں شروع ہوا تو ایک اسٹور تھا پھر کاروبار بڑھتا گیا،رئیل اسٹیٹ میں بھی کاروبار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں بینکنگ کے علاوہ کسی اور ذریعے سے پیسے جانے کا کوئی سوچ سکتا ہے؟ یہ کاروبار میرے بھائیوں کا ہے وہ اس کو مینج کررہے ہیں، بھائیوں نے تمام کاروبار ڈاکیومنٹ کیا ہوا ہے۔

عاصم باجوہ نے بتایا کہ ری انویسٹمنٹ ہوئی پھر جو رقم آئی وہ تقسیم بھی ہوئی، کاروبار کے زیادہ تر پیسے بینک قرض میں گئے ہیں، کونسے پیسے کہاں سے کدھر گئے تمام کی 100 فیصد دستاویزات موجود ہیں۔

گفتگو کے دوران عاصم باجوہ نے واضح کیا کہ امریکا میں بھائیوں سے بھی تمام دستاویزات منگوائیں اس کے بعد جواب لکھا، یہاں ڈکلیئریشن میں اہلیہ کے نام 31 لاکھ کی رقم دی ہے، 31 لاکھ وہ سرمایہ کاری ہے جو اہلیہ کے نام پرپاکستان میں ہے وہ یہاں ڈکلیئر کی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا والی سرمایہ کاری 19،492 ڈالر پارٹ آف سکسیشن پلان تھی، ڈس انویسٹ کی گئی رقم امریکا میں آباد میرے دو بچوں کو چلی گئی، ڈس انویسٹ کی گئی رقم میں سے کوئی پیسہ پاکستان نہیں آیا، کوئی رقم پاکستان آئی ہوتی تو دستاویز میں ہوتی۔

عاصم باجو ہ نے کہا کاروبار میں میری یا اہلیہ کی شیئر ہولڈنگ نہیں ہے، سائیون کمپنی غیر فعال ہے، سائیون بلڈر میں میرے بچے کام کرتے ہیں، سائیون بلڈر کاذکر دستاویز میں اس لیے نہیں کیا کہ یہ صحافی کی اسٹوری میں نہیں تھی، دستاویز ٹیکس ایڈوائزر، قانونی مشیر کو دکھا چکا ہوں، وزیراعظم بھی میری وضاحت کو دیکھ چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی فورم پر دستاویز دکھانے کو تیار ہوں، پاکستان میں جہاں بھی منی ٹریل، دستاویز دینے کی ضرورت ہو پیش کرنیکو تیارہوں، میں نے عزت، وقار کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ہے اور کرتا رہوں گا۔

واضح رہے گزشتہ دنوں صحافی احمد نورانی نے عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں الزامات لگائے تھے عاصم باجوہ کی طرف سے ان الزامات کی 4 صفحات پر مشتمل طویل وضاحت اور تردید جاری کی گئی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleppy
Sleppy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »