شراب سے شہد بنانے کا کامیاب تجر بہ

24
0 0
Read Time:6 Minute, 52 Second

مدثر چوہدری

جوں جوں نئے پاکستان کی عمر مبارک میں اضافہ ہو رہا سب کچھ نیا نیا لگ رہا ہے ہر دن ایک نئ حیران کن خوشی لے کر آتاہے کوئی ایک نئے پاکستان کا معمار اٹھتا اور ایک بیان جاری کرتا ہے اور پھر اگلے تین دن تک ٹی وی چینلز اخبارات سوشل میڈیا اس اقوال زریں کو گھر گھر پہنچاتے رہتے ہیں۔جب تک کوئی نیا بیان جاری نہ ہو جائے خوب مباحثے چلتے ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے فنکاروں کے بارے میں بیان جاری کیا گھر گھر انکا پیغام ابھی پہنچا ہی تھا کہ معافی والا پیغام بھی آگیا فرانس کے صدر کے فون کو رد کیا گیا کہ مصروفیت ہے بعد میں پتا چلا کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی مانیکا فیملی گوندل اور گجر پورا ایک ہفتہ چھائے ہوئے تھے لگ ایسے رہا تھا کہ یہ ہی مسئلہ اس وقت پاکستان میں رہ گیا ہے یہ حل نہ ہوا تو کہیں دشمن پاکستان پر حملہ نہ کر دے دن رات ایک کر کے گھنٹوں کے وقت کے ساتھ اس کیس کو سنا اور سلجھانے کی کوشش کی گئی۔

اچھاہے قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے لیکن سالوں سے چلتے ہوئے کیسز جن کی پیروی کرتے کرتے لوگوں کے گھر بار بک گئے پیروی کرنے والے یا انصاف کا انتظار کر نے والے دنیا سے اس امید پر چلے گئے کہ کوئی بات نہیں یہاں تو کسی کو انصاف دینے کا ٹائم نہیں اگلے جہاں اللہ تعالیٰ کے پاس سے لے لیں گے کیونکہ ہمارا یقین ہے وہ سنتا ہے اسکے پاس اپنے پیدا کیے ہر بندے کے لیے ٹائم ہے۔

وہ پر کسی مظلوم کے لیے سوموٹو نوٹس لیتا ہے اوردنوں اور گھنٹوں میں نہیں منٹوں اور سکنڈز میں فیصلہ کرتا ہے میرا تو یہ خیال ہے پارلیمنٹ ختم کر کے اقتدار ایک دو اداروں کو دے دینا چاہے تاکہ انصاف کی فراہمی بروقت ہو دن رات چھٹی والے دن بھی انصاف ہو اور اب تو انصاف اتنی تیزی سے اور اور اتنی اچھی قیمت ہر ملتا ہےکہ سوچ آپکی۔

آپ کھل کھلا کر کسی کو ماریں بے عزت کریں مشہور ہوں عدالت بلائے گی نیک کام میں حصہ ڈلوانے کے بعد آپ آزاد کے آزاد اور نیکی کرنے پر فخر اپنی جگہ تھپڑ کا ریٹ تو آگیا ہے اب زخمی اور قتل کا کیا ریٹ آتا وقت کے ساتھ پتا چلے گا آخر کا ر کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے اتنا بڑا منصوبہ بغیر قربانی کے کیسے بن سکتا ہے کسی کو جان کی کسی کو مال کی اور کسی عزت کی قربانی دینی پڑے گی۔

شراب کو شہد میں بدلتا دیکھنا ہو تو پاکستان جیسے ملک کے علاوہ کہیں ممکن ہی نہیں 2014 کے دھرنا میں گنڈا پور صاحب سے شہد برآمد ہوا سینکڑوں لوگوں نے دیکھا اور رپورٹ کیا میڈیا براہ راست دکھاتا رہا کہ دیکھیں یہ ہے وہ چیز جو بعد میں شہد بن جاتی اور واقعی وہ بعد میں خالص شہد بن گئ اسی طرح چند دن پہلے چیف صاحب اپنے روایتی ہنگامی چھاپہ پر ضیاء الدین ہسپتال کراچی پہنچے جہاں سب جیل میں موجود شرجیل میمن جو کہ بہت سے امراض میں مبتلا تھے۔

ہر پیشی پر چھڑی کا سہارا لے کر پیش ہوتے انکا کمرہ دیکھ کر چیف صاحب حیران و پریشان ہوئے جو کہ انہیں نہیں ہونا چاہے تھا مجھے 100 فیصد امید ہے وہ سچی مچی کے چیف ہیں اور انکو پاکستان کے حالات واقعات کا اچھے سے علم ہے کہ یہ قانون یہ جیلیں صرف غریب اور سفید پوشوں کے لیے ہیں بااثر اور تگڑے لوگ چوں کہ بہت سے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اس لیے وہ غریبوں کی طرح اپنی بیماریوں اور لاچاریوں سے لڑ نہیں سکتے اس لیے انکے لیے ہسپتال میں علاج کے نام پر لگثرری کمرے سجا دیے جاتے ہیں۔

جہاں وہ آرام سے اپنا مشکل وقت گزارتے ہیں چیف صاحب کے چھاپے کے دوران شراب کی بوتلیں، یاد رہے کہ یہ شہد بننے سے پہلے کی قسم ہوتی ہے اور ہمیں سب کو بحثیت مسلمان پتا ہے کہ شراب حرام ہے اس لیے پینے والے کوشش کرتے ہیں کہ پہلے اسے شہد بنا لیا جائے پھر پیا جائے کیونکہ شہد حلال چیز ہے سو شراب پکڑی گئی چیف صاحب کو بتایا گیا کہ جناب پرائیویٹ لوگ موجود ہیں اور شراب کی بوتلیں جن میں شراب موجود ہے وہ ملیں ہیں ۔

جتنے لوگ موجود تھے سب کے سب مملکت خداداد پاکستان کے زمہ دار عہدوں پر براجمان تھے سب نے شراب کنفرم کی شرجیل میمن صاحب نے خود فرمایا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں میمن صاحب جو اپنی چھڑی کے بنا پائے گئے جس سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ بہت بیمار ہیں انکو صحتمند غریبوں والی جیل میں بھیجنے کا حکم ہوااور شراب کے لیبارٹری ٹیسٹ کا حکم جاری ہوا حکم جاری کرتے وقت چیف صاحب بھول گئے کہ یہ جتنے ٹائم میں لیبارٹری پہنچے گی اس سے کم وقت میں تو یہ شہد بن جائے گی ۔

شاید اپنی مصروفیات کی وجہ سے بھول گئے اور وہی ہوا جس کے لیے ماشاءاللہ سے پاکستانی ادارے مشہور ہیں رپورٹ آگئی کہ واقعی شہد ہے اور زیتون ہے ہر طرف مبارک باد کے پیغامات بھیجے جانے لگے کہ ایک اور تجربہ کامیاب ہوا حرام چیز حلال میں بدل گئی باقاعدہ ادارے کا لیٹر جاری کیا گیا اس مشہور سائنسدان اور ادارے کا نام بھی لکھا گیا تھا کہ یہاں سے کوئی بھی شراب کو شہد کروا سکتا ہے بلکہ اس ٹیسٹ کی ویڈیو بھی بنائی گئی تاکہ کسی کو اس صلاحیتوں سے مالا مال ادارے پر شک نا رہے۔

اس طریقہ کو دیکھ کر اس مشہور و معروف لیبارٹری اس میں کام کرنے والے اور ملک پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن رہنے میں کوئی کمی نہ رہ جائے یہاں اس لیبارٹری میں ایسی مشینری موجود ہے جس کو کسی بجلی اور کسی بڑی عمارت کی ضرورت نہیں بس ایک نام نہاد ایماندار آفیسر ہونا چاہے دونوں ہاتھ اور زبان کام کرتے ہونے چاہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہو نی چاہیے شرم اور غیرت بھی دور دور تک نہیں ہونی چاہیے۔

حرام کھانے اور اپنے بچوں کو کھلانے کا عادی ہو نا چاہیے وہ اپنی ہتھیلی پر شراب کو ڈالے اپنی زبان لگائے اور اس کو شہد بنا دے اور پھر انگلش لیٹر میں اعداد و شمار کے ساتھ اس کو شہد بنانے کی تصدیق کر دے بڑے سے بڑے سائنسدان حیران اور پریشان ہیں پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بڑی بڑی شہد بنانے والی کمپنیاں اس آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی لیکن اب موصوف فون ہی نہیں اٹھاتے کیونکہ مانگ بڑھ جائے تو ناز انداز آ ہی جاتے شہد کی چھوٹی بڑی مکھی دونوں ایک دوسرے کو شہد بنانے کے اس طریقہ کہ بارے میں جا جا کر بتا رہیں ہیں کہ ایسے ہم سب اتنی محنت کرتیں ہیں ۔

چیف صاحب نے تو اس معجزہ کو نا مانتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے لیکن سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہویے لگ رہا کہ چاہتے نا چاہتے چیف صاحب کو بھی شہد کے اصلی ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا پڑے گا لیکن چونکہ نیا پاکستان بن رہا تو شاید یہ سارا تجربہ ناکام ثابت ہو جائے حرام کو حرام قرار دیا جائے حلال قرار دینے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس ملک کی بدنامی کا سبب نہ بن سکے شائد کچھ فرق کم کیا جائے تگڑا مجرم یا ملزم کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ رکھا جائے جیسا کہ کسی عام پاکستانی مجرم یا ملزم کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔

شاید عام لوگوں کے کیس بھی ایسے ہی سنے جائیں جیسے مانیکا فیملی گوندل اور گجر کے سنے جارہے ہیں نان ایشوز کو روزانہ کی بنیاد پر ایشو بنایا جارہا عام لوگوں کو تقریباً زہنی مریض بنا دیا گیا ہے جن کا مسلئہ روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ شاید اور کچھ نہیں اور ہمارے اکابرین شہد اور پروٹوکول کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
2Shares

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »